
رپورٹ کے مطابق اسلام دشمن ساست دان راسموس پالوڈان نے مسلمانوں کے جذبات کو دوبارہ مجروح کردیا جب انہوں نے اسٹاک ہوم میں قران کو زمین پر مار دیا۔
راسموس پالوڈان نے مسلمان نشین علاقے کی جامع مسجد فیتجا کے سامنے اس توہین آمیز فعل کا انجام دیا اور مسلمانوں کے سامنے قرآن مجید کو زمین پر پھینک دیا جس پر مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔
ایک ترک نژاد مسلمان نے سیکورٹی پا مامور پولیس سے بھی سخت احتجاج کیا ۔
انکا کہنا تھا کہ قرآن مقدس کی توہین آزادی نہیں، ہم بھی کتاب مقدس اور حضرت عیسی کا احترام کرتے ہیں اور کسی مسلمان کو جرات نہیں کہ وہ مقدس کتاب کو آگ لگا دے۔
انہوں نے فریاد بلند کیا کہ اس نفسیاتی مریض کو کیوں توہین کی اجازت دی جاتی ہے، پولیس اہلکاروں نے بڑھتے اعتراضات کو دیکھ کر راسموس پالوڈان کو علاقے سے باہر لے گیا۔
راسموس پالوڈان اس سے پہلے اسٹاک ہوم کے علاقے رینکبی، اسکرهولمنن اور ٹنسٹا میں قرآن کی توہین کرچکا ہے۔
عدالت نے گذشتہ روز راسموس پالوڈان کو نسل پرستی کے مرتکب قرار دیا مگر حیرت انگیز طور پر اسکی سزا میں کمی کردی۔
اس سے پہلے سال ۲۰۲۰ میں انکو نسل پرستانہ جرایم پر تین مہینے کی سزا سنائی گیی تھی تاہم اب عدالت نے نیا حکم جاری کیا۔
عدالت نے انکو سومالین خاتون کی توہین پر ۳۰ هزار کرون جرمانہ کیا جب کہ انکے فائل میں چودہ توہین اقدامات آمیز جرایم شامل ہیں۔
راسموس پالوڈان کی دوبارہ درخواست پر عدالت نے تین مہینے کی سزا معطل کردی اور تیس ہزار کرون کی جگہ صرف پانچ ہزار جرمانہ ادا کرنے کا پابند بنایا۔/