
رپورٹ کے مطابق صیہونی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقے بیسان میں جلبوع جیل میں قید 6 فلسطینی قیدیوں نے 10 میٹر طویل سرنگ کھود کر جیل سے کامیابی سے نکل گئے۔
اس رپورٹ کے مطابق جیل سے کامیابی سے نکلنے والے 5 قیدیوں کا تعلق جہاد اسلامی اور ایک قیدی کا تعلق فتح تحریک سے ہے جو کتائب شهداء الاقصی کے سابق کمانڈر تھے۔
اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق جیل سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کیلئے اسرائیل نے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرون کے ذریعے قیدیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
.

اسرائیل چینل کے مطابق فرار قیدی جنین پہنچ چکے ہوں گے۔


فلسطینی قیدیوں میں زکریا الزبیدی، مناضل یعقوب نفیعات، محمد قاسم عارضه، یعقوب محمود قدری، ابهم فواد کمامجی اور محمود عبدالله عارضه فلسیطنی جہادی تنظیموں کے اراکین ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کی جیلوں میں 4 ہزار 850 فلسطینی قیدی ہیں کہ جن میں سے 41 خواتین اور 225 نوجوان قیدی ہیں۔ جبکہ 250 ایسے قیدی بھی ہیں جن پر کسی بھی قسم کا کوئی الزام نہیں ہے۔
حماس: جلبوع آپریشن نے اسرائیل سیکورٹی سسٹم کو واضح کردیا
حماس ترجمان فوزی برهوم نے کہا کہ سخت ترین سیکورٹی والی جیل سے قیدیوں کا نکل جانا انکی شجاعت اور بیداری کو ثابت کرتا ہے۔
برهوم کا کہنا تھا: یہ کامیابی مزاحمتی تنظیموں کے مضبوط ارادے کی نشانی ہے جنہوں نے صیھونی دعووں کو کھوکھلا ثابت کیا ہے کہ وہ مضبوط ترین فوجی طاقت ہے۔
المجاهدین: اسرائیلی زوال قریب ہے
المجاہدین تریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ مردانہ وار جلوع زندان سے نکل جانا بڑی کامیابی ہے اور انکے مضبوط ارادوں کو دکھاتا ہے۔
المجاهدین کا کہنا تھا: یہ اسرائیل کی انٹلی جنس ناکامی ہے جو جعلی دعووں کے ساتھ خود کو مضبوط دکھاتا ہے۔
تحریک کا کہنا تھا: جیل سے فرار ایک خوشخبری ہے اور قیدیوں کی جدوجہد اسرائیلی کمزوریوں کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
جهاد اسلامی: چھ قیدیوں کی آزادی سیف القدس جنگ کا ثمر ہے
جہاد اسلامی تنظیم کے رہنما خضر عدنان نے اس حوالے بیان میں کہا ہے: چھ فلسطینیوں کی آزادی جلبوع جیل سے مزاحمت پر تاکید اور اسرائیل کی ذلت آمیز شکست کی نشانی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ فلسطینی قیدیوں کی آزادی اسرائیل کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے اور دیگر میدانوں میں انکی شکست کو یقینی بنا دے گی۔/
.


