IQNA

6:19 - September 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3510203
تہران(ایکنا) اقتصادی بحران سے لاکھوں افغانوں کی جانوں کو خطرہ ہوسکتا ہے اب تک کسی نے طالبان حکومت کو قبول نہیں کیا ہے۔

ایکنا نیوز کے مطابق بظاہرلگتا ہے کہ طالبان کے طرز عمل اور وعدوں پر عدم عملدرآمد کی وجہ سے انکو تسلیم کرنے کا مسئلہ غیرواضح ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوٹریس نے طالبان سے گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی مشکلات کی وجہ سے لاکھوں افغانوں کی جانوں کو بچایا جائے۔

فرنچ نیوز سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ طالبان سے گفتگو ہونی چاہیے اور اصولوں پر پابندی کے ساتھ افغانیوں سے وابستگی بھی ضروری ہے۔

 

اقوام متحدہ کی افغانستان بارے پریشانی / روس کا طالبان کابینه پر رد عمل

انکا کہنا تھا کوئی گارنٹی نہیں کہ مذاکرات کا نتیجہ نکلے اور لازمی ہے کہ اگر چاہتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز نہ بنے تو یہاں پر خواتین کو کام کی اجازت ملنی چاہیے اور دیگر اقوام کو تشخص دینے کی ضرورت ہے۔

 

پیوٹین: امریکہ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ہے

 

ولادیمیر پیوٹین نے امریکہ حکام کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

 

بریکس اجلاس سے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ امریکی اور حامیوں کا افغانستان سے نکلنے کہ وجہ سے بحران پیدا ہوا  ہے جس کا کوئی پتہ نہیں کہ علاقائی اور عالمی اثرات کیا ہوں گے۔

 

انکا کہنا تھا کہ بریکس کے اراکین نہیں چاہتے کہ یہ ملک دہشت گردی کا مرکز بنے اور یہاں سے منشیات کی برآمد ہو۔

 

امریکیوں کا مزید انخلا

 

امریکی وزیر خارجہ بلینکن کے مطابق قطری حکام سے مذاکرات کے بعد مزید امریکیوں کو افغانستان سے نکالا گیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق بوئینگ ۷۷۷ قطر ایرلائن نے  ۱۱۳ غیرملکیںوں کا یہاں سے نکالا ہے۔

 

اقوام متحدہ کی افغانستان بارے پریشانی / روس کا طالبان کابینه پر رد عمل

طالبان نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ حکومت کے قیام تک کسی کو جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

روس: کابینه کا کوئی حیثیت حاصل نہیں

اقوام متحدہ میں روسی نمایندہ واسیلی نبنزیا نے کہا ہے کہ اعلان شدہ کابینہ کو کوئی بین الاقوامی مشروعیت حیثیت حاصل نہیں۔

انکا کہنا تھا کہ صرف افغان عوام ملک کے نمایندے کو منتخب کرسکتے ہیں۔

 

تاہم انہوں نے تاکید کی کہ مغربی ممالک افغانستان کے بلاک شدہ رقم کو آذاد کریں تاکہ افغان عوام کو ریلیف مل سکے۔

 

افغانستان کے سفیر کا عالمی برادری سے درخواست

اقوام متحدہ میں افغانی سفیر نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ وہ طالبان کو کوئی مشروعیت بہ بخشے اور انکو تسلیم بہ کیا جائے.

فرنچ میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں افغان نمایندہ غلام ایسکزی جو اشرف غنی کے نمایندے کے طور پر یہاں ہر مقیم ہے اب تک وہاں عہدے پر فایز ہے انہوں نے کہا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جائے۔

 

اقوام متحدہ کی افغانستان بارے پریشانی / روس کا طالبان کابینه پر رد عمل

ایسکزی نے کہا ہے کہ اس گروہ کو کسی طور قبول نہ کیا جائے مگر یہ کہ وہاں وسیع البنیاد اور تمام اقوام کی نمایندہ حکومت تشکیل دیا جائے۔

 

ایسکزی نےپنجشیر میں  طالبان کو ظالمانہ کارروائیوں کا مرتکب قرار دیا۔/

3996425

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: