
جیو نیوز کے مطابق، افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بین الاقوامی فضائی کمپنیوں سے انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کی اپیل کرتے ہوئے ائیرلائن کمپنیز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر مسائل حل ہوگئے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان عبد القہار بلخی کا کہنا ہے کہ کابل انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اب مسائل حل ہو چکے ہیں جبکہ ائیر پورٹ اب ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے مکمل طور فعال ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں کے معطل کیے جانے کے باعث کئی افغان شہری بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں، ساتھ ہی متعدد افغان شہریوں کو کام یا تعلیم کے حصول کی غرض سے بیرون ملک سفر کرنے میں بھی مشکلات کاسامنا ہے۔
طالبان وزارت خارجہ کی جانب سے انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کے حوالے سے اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اشرف غنی حکومت کے بعد ملک کو کھولنے اور اور بین الاقوامی سطح پر طالبان حکومت کو قبول کرنے کے حوالے سے کوششیں تیز کی جارہی ہے۔
افغانستان سے ہزاروں امریکی فوجیوں سمیت افغان شہریوں کے انخلاء کے دوران ائیرپورٹ کو ہونے والے نقصان کے باعث بند کردیا گیا تھا تاہم اب قطر اور ترکی کی ٹیکنیکل ٹیموں کی مدد سے حال ہی میں ائیر پورٹ کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
کابل ائیر پورٹ پر فی الحال ائیرپورٹ سے امدادی اور محدود مسافر پروازیں چلائی جارہی ہیں لیکن عام پروازوں کا سلسلہ شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔