
اقرا نیوز کے مطابق کینیڈا کی مسلم کونسل (CCMW) نے مجازی دنیا میں تعصب و نفرت انگیزی کو نقصان دہ قرار دیتے ہوِئے بیان میں کہا ہے کہ مسلم خواتین کو اس نفرت انگیزی سے مقابلے کی تربیت دی جائے گی۔
مہم #Hate۲Healing، ھیشٹگ کے ساتھ اکتوبر کے مہینے سے شروع کی جارہی ہے جو اسلامی ثقافتی ورثے کا مہینہ شمار ہوتا ہے۔
آن لائن مہم کے انچارج فردوس علی کا کہنا تھا: اس مہم میں حکومت کا تعاون شامل ہے اور اس میں پندرہ مختلف فلم کینیڈا کی مسلم خواتین کی بنائی گیی ہے جو اسلام فوبیا کا تجربہ کرچکی ہے۔
فردوس علی کے مطابق مہم میں داستان گوئی میں بہت سے نفرت انگیز جرائم اور اسلامو فوبیا کے حوالے سے باتیں ہوں گی۔
انکا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ان ویڈیوز کی مدد سے بہت سے اسلام فوبیا کی شکار خواتین اپنے مسائل ہمارے ساتھ شئیر کریں گی تاکہ اس سے مقابلہ ممکن ہو۔
کینیڈا میں نفرت انگیز جرایم اور مسلمانوں کی توہین و تذلیل کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ۴۵ واقعات سال ۲۰۱۲ میں ہوئے جو سال ۲۰۱۸ میں ۱۸۱ تک پہنچے اور سال ۲۰۲۰ میں یہ واقعات ۸۲ پر واپس پہنچے ہیں
کینیڈا میں اسلاموفوبیا میں بالخصوص مسلمان باحجاب خواتین نشانے پر رہتی ہیں اور اسی طرح مجازی دنیا میں ان کے خلاف شدید پروپگنڈہ کیا جاتا ہے۔
ایک سروے کے مطابق کینیڈا میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور گذشتہ عشرے میں انکی آبادی ۸۲ فیصد اضافہ ہوا ہے اور سال ۲۰۰۱ میں انکی تعداد جو ۵۷۹ ہزار تھی سال ۲۰۱۱ میں انکی تعداد دس لاکھ س بڑھ چکی تھی۔/