امریکا کیلئے پیغام ہے، ہماری حکومت تسلیم نہیں کی تو دنیا کیلئے مسائل ہوں گے، ذبیح اللہ مجاہد

IQNA

امریکا کیلئے پیغام ہے، ہماری حکومت تسلیم نہیں کی تو دنیا کیلئے مسائل ہوں گے، ذبیح اللہ مجاہد

19:28 - October 31, 2021
خبر کا کوڈ: 3510545
طالبان نے امریکا اور دیگر ممالک سے افغانستان میں ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے میں ناکامی اور بیرون ملک موجود افغان فنڈز کو مسلسل منجمد کرنے سے نہ صرف ملک بلکہ دنیا کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔

ڈان نیوز کے مطابق اگست میں طالبان کی جانب افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عبوری حکومت کے قیام کے بعد بھی طالبان کو حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب ملک کو شدید اقتصادی اور انسانی بحرانوں کا سامنا ہے، بیرون ملک افغانوں کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکا کے لیے ہمارا پیغام ہے، اگر عدم شناخت کا سلسلہ جارہی رہا یہ صرف خطے نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان پچھلی مرتبہ جنگ کی وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں تھے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جن مسائل کی وجہ سے جنگ ہوئی، انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، انہیں سیاسی سمجھوتے کے ذریعے بھی حل کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تسلیم کرنا افغان عوام کا حق ہے۔

اگرچہ کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن متعدد ممالک کے سینئر حکام نے کابل اور بیرون ملک تحریک کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔

تازہ ترین دورہ ترکمانستان کے وزیر خارجہ کا تھا جنہوں نے ہفتے کے روز کابل میں طالبان سے ملاقات کی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ دونوں فریقین نے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیاگیس پائپ لائن پر تیزی سے عملدرآمد پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل چین کے وزیر خارجہ نے رواں ہفتے کے شروع میں قطر میں طالبان حکام سے ملاقات کی تھی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتے کے روز کہا کہ چین نے ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت اور کابل کی برآمدات کو ہمسایہ ملک پاکستان کے راستے چینی منڈیوں تک رسائی دینے کا وعدہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بارڈر کراسنگ کو درپیش مسائل کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس معاملے پر سنجیدہ بات چیت اس وقت ہوئی جب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی گزشتہ ہفتے کابل گئے تھے۔

نظرات بینندگان
captcha