
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر انکو اسلامی شریعت کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
.
اس حوالے سے نہ صرف مسلم کمپنیاں بلکہ تمام تجارتی یا اقتصادی حوالوں سے سرگرم ادارے خدمات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثلا خوراک کے شعبے میں حلال گوشت یا کولڈ ڈرنکس وغیرہ کے حوالے سے کافی کمپنیاں سرگرم ہوچکی ہیں جبکہ مالی حوالون سے اسلامک بینکنگ سسٹم فعال ہوچکا ہے۔
برطانیہ میں جہاں بڑی تعداد میں مسلمان موجود ہے یہاں پر اقتصادی حوالوں سے کافی مواقع موجود ہیں اور انکو خدمات اور حلال مصنوعات فراہم کرکے بڑا سرمایہ جمع کیا جاسکتا ہے۔
حلال شعبے میں ترقی
مغربی معاشرے میں مسلمانوں کی ضروریات کے پیش نظر مالی اور خوراک کے شعبوں کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے اور اسی حوالے سے مختلف اسٹارٹاپ نے کوشش کی ہے کہ دیگر شعبوں میں بھی کام کو شروع کیا جاسکے اور حال ہی میں . «Islamic GPS»کا ایجاد بھی اس سلسلے کی کڑی شمار کی جاسکتی ہے۔

اس اسٹارٹاپ کو ایک پاکستانی به نام اقبال حسین نے تیار کیا ہے جوپہلے بٹا ورژن Islamic GPS سال ۲۰۱۵ میں محدود انداز میں پیش کیا گیا اور ایک سال بعد Islamic GPS میں وسیع انداز میں اسکو لاونچ کیا گیا ہے۔
Islamic GPS ایک ایسا ایپ ہے جس کو فون میں انسٹال کرکے دنیا بھر میں کہیں بھی اسلامی مرکز یا مسجد یا اسلامی مقامات کو بہ آسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
اپلیکیشن Islamic GPS بیس کیلومیٹر تک قریبی نماز خانہ ڈھونڈ سکتا ہے اور اطراف کے مقامات کو واضح انداز میں پیش کیا جاتا ہے مثلا اگر اس ایپ کے ساتھ آپ مکہ یا استنبول جائے تو آسانی سے زیارات اور سیاحتی مقامات کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔
اس وقت Islamic GPS کو بنانے والے اس ایپ کو تجارتی مقاصد کے لیے بھی وسیع انداز میں استفادہ کرنے پر کام کررہے ہیں۔
حسین کے مطابق، Google Maps سے صرف مساجد کو ڈھونڈا جاسکتا ہے مگر Islamic GPS کے ساتھ آپ اسلامی مقامات اور مراکز کو بھی آسانی سے تلاش کرسکتے ہیں۔
Islamic GPS دس بہترین سفری ایپ میں اس وقت مالاوی، پاکستان اور سری لنکا میں شمار ہوتا ہے اور دیگر ۹۴ ممالک میں بھی اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔
اس ایپ کو بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ Islamic GPS کو مزید دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر کام کیا جارہا ہے اور دیگر سیاحتی اداروں کے تعاون سے اس میں بہتری کے وسیع امکانات موجود ہیں تاکہ حلال ریسٹورنٹ اور دیگر مقامی امکانات سے استفادہ کیا جاسکے۔
رپورٹ: محمد حسن گودرزی