
ٹی آرٹی نیوز کے مطابق لبنان کے وزیرخارجہ نے تاکید کی ہے کہ سعودی کی جانب سے تعلقات بحالی کے لیے حزب اللہ کے کردار کو محدود کرنے کی شرط کو ناممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی کی خواہش ہے کہ ہم حزب اللہ کے سر کو انکے آگے خم کریں تو ایسا ہم نہیں کرسکتے۔
انکا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے رابطہ منقطع کرنے قبل نئی حکومت سے کوی رابطہ ہی نہیں کیا۔
بوحبیب نے رویٹرز سے گفتگو میں کہا: ہم ایک مشکل مرحلے میں ہیں اگر سعودی حزب کا سر ہم سے طلب کررہا ہے تو ایسا ممکن نہیں اور سعودی وزیر خارجہ خود کہتا ہے کہ اصل مشکل حزب اللہ ہے جورج قرداحی کا بیان نہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ملک پر حزب اللہ کا تسلط نہیں بلکہ وہ نظام کا حصہ ہے اگرچہ علاقے میں انکے فوجی حلیف موجود ہے تاہم وہ اس سے ملک کے اندر استفادہ نہیں کرتی اور یہ ایک حقیقت ہے جس کو تبدیل نہیں کرسکتے۔
.
بوحبیب نے کہا کہ مذاکرات ہی سے سعودی لبنان مسائل حل ہوسکتے ہیں اور لبنان میں نجیب میقاتی کی حکومت آنے کے بعد سے سعودی کے ساتھ کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے۔
گذشتہ دنوں سعودی، امارات اور کویت نے لبنانی وزیر اطلاعات جورج قرداحی کے یمن جنگ بارے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے اپنے سفراء کو واپس بلا لیے ہیں۔
مذکورہ لبنانی وزیر نے بیان میں یمن جنگ بارے سعودی پر تنقید کی اور سعودی حملوں کے خلاف حوثی دفاع کو انکا حق قرار دیا تھا۔/