
بیٹ کوائن نیوز کے مطابق انڈونیشاء کی علما کونسل کے سربراہ عصروران نیام شعله (Asrorun Niam Sholeh)
نے ایک خصوصی نشست کے بعد پیغام میں کہا ہے کہ ڈیجٹیل کرنسی میں غیریقینی کیفییت، شرط بندی اور نقصان کا اندیشہ ہے۔
تاہم انکا کہنا تھا کہ اگر بیٹ کوائن یا دیگر ڈیجیٹل کرنسی شریعت کے اصولوں پر پابند رہیں اور سودمندی دکھا سکتے تو اس وقت ان کرنسیوں سے معاملہ ہوسکتا ہے۔
اندونیشیاء علما کونسل کے مطابق انکے فتوے پر عمل قانونا ضروری نہیں تاہم کونسل نے فیصلہ کیا ہے اس فیصلے سے مختلف ادارے کرپٹو کرنسی سے کاروبار پر عمل کرنے سے باز آسکتے ہیں۔
انڈونیشیاء علما کونسل (MUI)، ملک کا اعلی اسلامی ادارہ ہے جو اقتصادی معاملات میں وزارت خزانہ کو مشورہ دیتا رہتا ہے۔
تاہم توقع کی جاتی ہے کہ چین کی طرح انڈونیشیاء بھی ڈیجیٹل کرنسی پر مکمل پابندی نہیں لگائے گا اور غیررسمی طور پر اس سے کاروبار جاری رہنے کا امکان ہے۔/