
یونا نیوز کے مطابق امریکہ میں مقیم مصری نژاد عیسائی پادری جنکو کلیسا سے نکالا گیا ہے انکی جانب سے شان نبی گرامی اسلام (ص) میں توہین پر انکی شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور عالمی اسلامی ریڈیو الاینس نے انکی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
ریڈیو الاینس نے ایک بیان میں عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مذہب کے لبادے میں ایسے افراد کی جانب سے توہین آمیز اقدام کو روکا جائے جو مذاہب میں اختلاف ڈالنے کی سازش کرتے ہیں۔
مصری وکیل عمرو عبدالسلام نے امریکہ میں مقیم گستاخ پادری زکریا پطرس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تاکہ بین الاقوامی عدالت سے تحقیقات کراکے انکی گرفتاری ممکن بنایا جاسکے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ گستاخ پادری سالوں سے سوشل میڈیا اور بعض امریکی چینلز کے زریعے سے حضرت محمد(ص) کی توہین کرکے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔
مصری وکیل کا کہنا تھا کہ تیرہ نومبر کو ایک بار پھر یوٹیوب چینل پر مذکورہ پادری نے شان حضرت رسول(ص) میں جسارت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے گستاخ پادری مسلمانوں اور عیسائیوں میں اختلاف ڈالنے کی کوشش کررہا ہے دوسری جانب آرتھوڈکس عیسائی الاینس نے بیان میں کہا ہے کہ پطرس عیسائی نمایندہ نہیں اور انکو ذلت کے ساتھ کلیسا سے نکالا گیا ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایک فرد ایسی توہین کا مرتکب ہوکر اسلام کی توہین کررہا ہے جس کی قانونی سزا کم از کم چھ مہینے سے لیکر پانچ سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے یا پانچ لاکھ پونڈ جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔/