IQNA

7:40 - December 06, 2021
خبر کا کوڈ: 3510797
تہران(ایکنا) بغداد کی الرحمن مسجد پر کام صدام دور سے شروع ہوا اور اس وقت طے کیا گیا کہ یہ میڈِل ایسٹ کی عظیم ترین مسجد بنے گی۔

فرانس 24 نیوز کے مطابق بغداد کی الرحمن مسجد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسکو تاج محل کی رقیب کے طور پر تعمیر کی جائے گی اور صدام کے حکم سے اس پر کام شروع کیا گیا تاہم یہ پروجیکٹ تکیمل ہونے سے رہ گیا۔

 

نامکمل یہ عمارت بغداد میں  سیاسی اور فرقہ وارانہ جھگڑوں کی وجہ سے تشنہ تکمیل ہی رہ گیی جو عراقی معاصر تاریخی کی شکل پیش کررہی ہے۔

 

پروگرام کے مطابق اس مسجد میں پندرہ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہوتی اور یہ عظیم ترین مسجد بنتی۔

 

۱۹۹۰ میں کویت پر عراقی حملے کے دوران اس پر کام شروع ہوا مگر صدام کی ڈکٹیٹر شپ اور فرعونی خواب اور پھر مغرب کی پابندیوں اور اسی طرح امریکی حملے سے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

 

مسجد کا گولڈن گنبد ۸۴ میٹر لمبا ہے اور اسکے گرد آٹھ دوسرے گنبد ۲۸ میٹر کے ساتھ تکمیل کے منتظر ہی رہ گیے۔

 

یونیورسٹی استاد اور انجنیر محمد قاسم عبدالغفور نے فرانس نیوز سے گفتگو میں کہا: ہم نے قومی ورثے کو اہمیت نہ دی اور یہ عراقی عوام کے پیسوں سے بنا اور اس کے فایدہ سب کو ملتا اگر ہم اسے سیاحتی مقام میں تبدیل کرتے۔

 

ایک اور اعلی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ صدام کے بعد اس مسجد کی تعمیر کی ذمہ دار فضیلت اسلامی پارٹی کو ملی مگر وہ اس پر کام نہ کرسکی کیونکہ اسکے اخراجات کافی زیادہ ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت اس مسجد کو یونیورسٹی یا میوزیم میں بدلنا چاہتی تھی مگر اس پارٹی نے اسکی اجازت نہ دی۔

 

اس نامکمل مسجد میں اسی پارٹی کے لوگ نماز جمعہ ادا کرتے ہیں، پارٹی رکن سبیح الکتینی کا کہنا تھا کہ حکومت نے کئی بار اس مسجد کی ملکیت لینا چاہی مگر کامیاب نہ ہوسکی۔

 

اور ایک ماہر تعمیرات پیری کا کہنا تھا کہ جب تک پارٹیوں میں اختلافات باقی ہیں اس مسجد کی تعمیر مشکل نظر آتی ہے۔

مسجد کی تعمیر کے انچارج  مازن الآلوسی کا کہنا تھا کہ یہ ایک شاندار منصوبہ تھا مگر افسوس اس پر کام مکمل نہ ہوسکا۔

 

آلوسی نے کہا کہ اس پر بے انتہا لاگت نہیں آنی چاہیے اور مسجد کو شیعہ سنی مرکز میں تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔/

4018465

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: