قرآن مجید کے عربی زبان میں نزول کی وجہ

IQNA

مصری مفتی

قرآن مجید کے عربی زبان میں نزول کی وجہ

7:13 - December 20, 2021
خبر کا کوڈ: 3510906
تہران(ایکنا) سابق مفتی اعظم علی جمعه نے عربی زبان میں نزول قرآن کی وجوہات کا ذکر کیا۔

صدای البلد نیوز کے مطابق سابق مصری مفتی علی جمعہ کا کہنا تھا: روئے زمین پر پانچ ہزار کی لگ بھگ زبانیں موجود ہیں جنمیں لوگ بات کرتے ہیں تاہم اہم کتابخانوں میں اکیس زبانوں کے ساتھ کتابیں موجود ہیں جنمیں

عربی، فارسی، انگریزی، جاپانی وغیرہ قابل ذکر ہے۔

 

علی جمعہ کا  ٹی وی پروگرام «والله اعلم» سے گفتگو میں کہنا تھا :ایسی زبانیں بھی موجود ہیں جنمیں صرف چالیس پچاس افراد بات چیت کرتے ہی اور ایک سروے کے مطابق ہر سال لوگوں کی اموات کے ساتھ تین سو زبانیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔

 

مصری مفتی کا کہنا تھا: عربی زبان دیگر زبانوں کے مقابلے میں کافی غنی ہے اور مترادف الفاظ کی کثرت ہے مثلا کلمه «اسد» کے لیے سات سو مترادف موجود ہیں جو دیگر زبانوں میں ممکن نہیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ قرآن و حدیث کی وجہ سے عربی زبان کے ختم ہونے کا امکان نہیں۔

 

علی جمعه کا کہنا تھا کہ قرآن مجید اور احادیث کی وجہ سے اس زبان کو ایک مقدس زبان کا درجہ حاصل ہے کیونکہ اسی زبان میں کتاب اتری ہے کیونکہ بذات خود کسی زبان کو تقدس حاصل نہیں۔

 

 

سابق مصری مفتی نے عربی میں قرآن کے نزول کے حوالے سے کہا: خدا نے لامحدود حکمت و دانائی کی بنیاد پرعربی زبان کا انتخاب کیا کیونکہ اس زبان میں بہترین خصوصیات موجود ہیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ عربی زبان برترین زبان ہے جس کو علم غیب کے نزول کے لیے انتخاب کیا گیا اور خود رسول گرامی  حضرت محمد بن عبدالله(ص) کی اپنی زبان بھی ہے۔

 

علی جمعه کا کہنا تھا: خدا نے ارادہ کیا کہ اس کتاب کو عربی میں نازل کیا جائے تاکہ گہرے مفاہیم کے ساتھ انسانوں تک درست پیغامات پہنچ سکے اور یہ قرآن تا قیامت پیغام پہنچاتا رہے گا۔/

4021978

نظرات بینندگان
captcha