
پاکستانی عالم دین اور قم مدرسے کے حجتالاسلام والمسلمین سیدشجاع حسین حسینی نے ایام فاطمیه اور شهادت حضرت فاطمه زهرا(س)، دختر نبی اکرم(ص) کے حوالے سے ایکنا سے گفتگو میں حضرت زهرا(س) کی شخصیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: حضرت فاطمه(س) عظیم ترین پیشوا اور خاتون جنت ہے جو بابا کے سایے میں پلی اور اس طرح پروان چڑھی کہ «امابیها» کا لقب حاصل کیا۔
حسینی نے ہر مسلمان کو جناب سیدہ کی مرہون منت قرار دیتے ہوئے کہا: خدا نے روئے زمین پر نعمتوں کو ان ہی ہستیوں کے صدقے میں اتارا ہے۔
انکا کہنا تھا: حضرت فاطمه زهرا(س) نے بعنوان دختر رسول اسلام(ص) اور حضرت علی(ع) کی اہلیہ کے طور پر سخت ترین مصیبتوں کا سامنا کیا۔
پاکستانی عالم دین کا کہنا تھا: حضرت محمد(ص) فرماتے ہیں: «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّی فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِی وَ مَنْ آذَانِی فَقَدْ آذَی اللَّهَ: فاطمه میرا ٹکڑا ہے جو اسے ناراض کرے اس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے مجھے ناراض کیا اس نے خدا کو ناراض کیا ، اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ رسول اسلام(ص) کس قدر جناب فاطمه زهرا(س) کے لیے مقام کا قایل تھا۔
انکا کہنا تھا: حضرت فاطمه(س) جب سفر یا جنگ پر جاتے تو آخری فرد جس سے خدا حافظی کرتا وہ جناب زہرا تھی اور واپسی پر سب سے پہلے اسی سے ملتے۔
انکا کہنا تھا: اسلام(ص) جناب زہرا کا مقروض ہے جس نے دور جاہلیت میں یوں شاندار معاشرہ تشکیل دیا۔
پاکستانی عالم دین کا کہنا تھا: رسول اسلام(ص) جناب حضرت فاطمه(س) کو بہت اہمیت دیتا: «مَثَلُ أَهْلِ بَیتِی فِیکُمْ کَمَثَلِ سَفِینَةِ نُوحٍ، مَنْ دَخَلَهَا نَجَی، وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ» اور کہتے میری اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی مانند ہے۔
حجتالاسلام نے کہ مغربی دنیا ثقافتی یلغار کرتے ہوئے ہم پر مغربی عورت کو مثال بنانے کے درپے ہیں مگر حضرت فاطمه زهرا(س) ہمارے لیے عظیم ترین نمونہ عمل ہے۔
انکا کہنا تھا: حضرت علی(ع) فرماتے ہیں «عورت کا جہاد شوہرداری ہے»، لہذا عورت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ گھریلو امور کو بہت اہمیت دیں۔
پاکستان عالم نے حضرت فاطمه(س) کی شوہر داری کی مثال دیتے ہوئے کہا: جناب زہرا نے بہترین نمونہ پیش کیا اور حضرت زهرا(س) نے امام علی(ع) کی بیوی کے ناطے عظیم مثال قایم کی۔
حجتالاسلام والمسلمین حسینی نے فاطمه زهرا(س) کی تربیت اولاد کے حوالے سے کہا کہ حضرت زهرا(س) کی اولاد کی تربیت بھی شاندار نمونہ ہے۔/