
الوفد نیوز کے مطابق روھنگیا عوام کی متعدد درخواست کے باوجود بین الاقوامی برادری کی غفلت سے یہ لوگ دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بین الاقوامی اداروں نے بنگلہ دیش کی جانب سے روھنگیا بارے حالیہ اقدام کی شدید مذمت کی ہیں۔
بنگلہ دیش نے فیصلہ کیا ہے کہ کاکس بازار میں تمام اسکولوں کو بند کیا جائے گا جس س ہزاروں پناہ گزین حصول علم سے محروم رہ جائیں گے، بین الاقوامی اداروں نے اس اقدام پر انتباہ کیا ہے۔
اگرچه سال ۲۰۱۷ میں میانمار کی جانب س روھنگیا پر مظالم شروع کرنے پر بنگلہ دیش نے اس وقت اہم کام انجام دیا اور بڑی تعداد میں مہاجرین کو پناہ دی تاہم بعد میں انکو عام لوگوں میں میل جول سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کیے گیے۔
اس حوالے سے روھنگیا بچوں کو سرکاری اسکولوں میں جانے سے روک دیا گیا اور اسی طرح پرائیویٹ اسکولوں میں خاص شرایط کے ساتھ داخلے کی اجازت دی گیی۔
اس کے باوجود بہت سے عالمی اداروں اور اسلامی تنظیموں نے روھنگیا پناہ گزینوں کی امداد اور باعزت زندگی کی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا ہے اور انکا کہنا ہے کہ تمام عالمی انسانی حقوق کے اداروں پر انکی امداد ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔/