
ایکنا نیوز نے ٹی آرٹی نیوز کے حوالے سے رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ دو ہزار سال قبل سے مسیحیت ادیان ابراہیمی کا اہم ترین مذہب رہا ہے تاہم پیو ریسرچ مرکز کے سروے میں کہا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے اختتام سے پہلے یہ اسلام ہوگا جو سب سے بڑا مذہب شمار ہوگا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں مسیحیت ۵۶۰ ملین پیروکاروں کے ساتھ عیسائی مذہب کو سب سے بڑا ابراہیمی مذہب کہا جاتا ہے جہاں مسلمان دو سو ملین کے ساتھ موجود ہے، انیسویں صدی کے آغاز میں عیسائیت ۳۴ فیصد کل آبادی کا شمار ہوتا تھا جب کہ مسلمان بارہ فیصد پر مشتمل تھا۔
تاہم اکیسویں صدی میں یہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور اسلام کے پیروکار دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جو اس وقت جاری ہے۔
پیو ریسرچ مرکز کے مطابق سال ۲۰۵۰ تک اگر مسلم آبادی اسی تیزی سے بڑھتی رہے تو عیسائی اور مسلم آبادی برابر ہوگی اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ دو بڑے مذاہب کے پیروکار برابر ہوں گے۔
ایک اور سروے کے مطابق سال ۲۰۱۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۰۱۵ سے ۲۰۶۰ کے درمیان اسلام دگنی رفتار س دیگر مذاہب کے مقابلے میں بڑھ رہا ہے اور اس صدی کے نصف عرصے کے بعد عیسائیوں سے انکی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
اس ریسرچ کے مطابق مسلم خواتین میں اولاد پیدا کرنے کا سلسلہ بھی تیز ہے اور ایوریج ہر مسلمان خاتون ۹۔۲ فیصد کے ساتھ اولاد کی حامل ہیں جب کہ دیگر مذاہب میں یہ ۲۔۲ فیصد ہے۔
ایک اور مسلم آبادی میں تیزی کی وجہ مسلمانوں میں جوانوں کی بڑھی تعداد ہے جو دیگر مذاہب کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ جوان کہا جاسکتا ہے ۔
ایک اور وجہ یہ ہے کہ اکثر مسلمان امریکہ اور یورپ میں ہجرت کے خواہشمند ہیں اور پیو مرکز کے مطابق سال ۲۰۵۰ میں یورپ کا ایک فیصد مسلمان ہوگا اور امریکہ میں یہ دو فیصد ہوگا ۔
ایشیاء کو دنیا میں بڑھتی آبادی کا انجن کہا جاتا ہے، چین اور انڈیا بڑی آبادی کے دو سرفہرست ممالک میں شمار کیے جاتے ہیں اور پیو ریسرچ مرکز کے مطابق انڈیا میں مسلم آبادی کا سب سے بڑا حصہ موجود ہے جو شاید جلد انڈونیشیاء کی جگہ لے سکتا ہے جہاں اس وقت سب سے بڑی مسلم آبادی موجود ہے۔/