
عربی نیوز 21 کے مطابق جوان سیاست دان اور ترقی پسند پارٹی کے نمایندے کو فسلطینیوں کا مضبوط حامی سمجھا جاتا ہے جو صھیونی بائیکاٹ کی حمایت کرتا رہا ہےانہوں نے مجموعی طور پر ۵۶ فیصد ووٹ حاصل کیا ہے جب کے اس کے مخالف امیدوار جسکو اسرائیل حامی شمار کیا جاتا ہے چوالیس فیصد ووٹ حاصل کرسکا۔
بوریک جموریہ چلی کا جوان ترین صدر ہے جو ایک عرصے سے صھیونی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے۔
روزنامہ ٹایمز آف اسرائیل کے مطابق بوریک جب پارلیمنٹ کا رکن تھا تو انہوں نے مقبوضبہ علاقوں میں اسرائیلی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مکمل حمایت کی تھی۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں چلی اقلیت کے سربراہ گابریل کولودرو نے عبری زبان نیوز سے گفتگو میں کہا: بوریک ہر اسرائیل مخالف قانون کی حمایت کرے گا انہوں نے ایک چینل میں اسرائیل کو ایک قاتل رژیم قرار دیتے ہوئے اسکی مخالفت کا اعلان کیا تھا۔
چلی میں ایک یہودی انجمن نے سال ۲۰۱۹ میں سال نو کے موقع پر بوریک کو تحفہ پیش کیا تھا جس پر انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ تحفے کا شکریہ مگر بہتر تھا کہ آپ لوگ اسرائیل سے مطالبہ کرتے کہ وہ غیرقانونی زمینوں پر قبضہ ختم کرے۔
چلی ان ممالک میں شامل ہے جہاں عربی ممالک کے بعد سب سے زیادہ فلسطینی موجود ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہاں پر تین سے چار لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔
بوریک نے سال ۲۰۱۸ میں دو اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ فلسطین کا دورہ کیا اور فسلطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔
عباس نے گذشتہ روز اس جیت پر بوریک کو مبارکبادی کا پیغام بھیجا تھا۔/