
ٹی آر ٹی نیوز کے مطابق فرانس کی عدالت نے اس مسلمان کو اسلامی گروپ کا رکن قرار دیا اور ایک مارکیٹ میں بلند آواز میں تکبیر سے لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے الزام میں آٹھ ماہ مہینے کی قید سزا سنا دی۔
باون سالہ مسلمان کو عدالت نے ساتھ سو پچاس یورو جرمانہ بھی کیا اور دو سال تک سوشل ایکٹویٹی سے دور رہنے کا حکم دیا، اس کے ایک اور ساتھی کو عدالت نے بری کردیا۔
مذکورہ شخص نے عدالت میں بیان دیا: مارکیٹ میں جب کورونا میں کمی کی وجہ سے شمالی علاقوں میں مذہبی اداروں کے کھلنے کی خبرسنی تو میں نے شکر کے طور پر بلند آواز میں اللہ اکبر کہا۔
انکا کہنا تھا: اس تکبیر سے کسی طور پر میرا ارادہ کسی کو خوف زدہ کرنا نہیں تھا.
عدالت میں وکیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ پچاس سالہ فرد اس سے پہلے دسمبر ۲۰۱۶ کو ایک تشیع جنازہ میں بھی لیون میں لوگوں کو ہراساں کرچکا ہے جس کی وجہ سے کلیسا کو خالی کرنا پڑا تھا۔/