عوامی جوش «آھنی پنجہ» اور «محبوب ترین» رهبر

IQNA

تهران میں تشیع رھبر بارے ایکنا رپورٹ

عوامی جوش «آھنی پنجہ» اور «محبوب ترین» رهبر

7:35 - July 07, 2026
خبر کا کوڈ: 3520413
ایکنا: انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کے جسدِ مطہر کی تشییع کا عظیم الشان مراسم صبح 6 بجے تہران میں ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں پرجوش عوام کی شرکت کے ساتھ شروع ہوا۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق رسمی آغاز سے کئی گھنٹے قبل ہی تشییع کے راستوں کی جانب جانے والی سڑکیں عوام کے ہجوم سے بھر چکی تھیں۔ لوگ جمہوریہ اسلامی ایران کے پرچم اور شہید رہبر کی تصاویر اٹھائے، ان سے آخری وداع اور رخصت کے لیے مقررہ راستوں پر موجود تھے۔ یہ تقریب محض غم و سوگ کا منظر نہیں بلکہ اپنے محبوب ترین وطن دوست رہبر کی تشییع میں کروڑوں ایرانیوں کے عزم، جوش اور حماسی ولولے کا مظہر تھی۔

سیل جمعیت در تهران؛ تشییع «آقای شهید ایران» با حضور میلیونی مردم آغاز شد

 

ایکنا کے نمائندے کے مطابق، انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر اور ان کے خانوادے کے شہداء کے جسدِ مطہر کی تشییع کا آغاز پہلے سے اعلان کردہ راستوں پر عوام کی بھرپور شرکت کے ساتھ ہوا۔ صبح کی اولین ساعتوں ہی سے تشییع کے راستوں سے ملحق سڑکیں ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے عوام کے عظیم اجتماع کا منظر پیش کر رہی تھیں۔

سیل جمعیت در تهران؛ تشییع «آقای شهید ایران» با حضور میلیونی مردم آغاز شد

 

عوام کی شرکت اس قدر وسیع تھی کہ رسمی تقریب کے آغاز سے کئی گھنٹے پہلے ہی مرکزی اور ذیلی شاہراہیں لوگوں سے کھچا کھچ بھر گئی تھیں۔ مرد و خواتین، نوجوان اور بزرگ، خاندان اور مختلف عوامی طبقات جمہوریہ اسلامی ایران کے پرچم، شہید رہبر کی تصاویر اور ان کی عظمت و خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے بینرز اٹھائے مقررہ راستوں پر جمع تھے تاکہ "ایران کے شہید آقا" سے اپنی آخری عقیدت و محبت کا اظہار کر سکیں۔

المان مشت گره کرده در میدان انقلاب

اس تقریب کے عزادار اسے صرف ایک وداع یا سوگ کی مجلس نہیں بلکہ ایک نئی حماسی تحریک کے آغاز اور شہید رہبر کے قاتلوں سے سخت انتقام کے عزم کی علامت قرار دے رہے تھے۔ سرخ پرچموں اور "یا لثارات الحسینؑ" کے نعروں والے علموں کا بلند ہونا ایرانی عوام کے اس اجتماعی مطالبے اور خواہش کا واضح اظہار تھا۔

سیل جمعیت در تهران؛ تشییع «آقای شهید ایران» با حضور میلیونی مردم

 

آج کی یہ تشییع ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب گزشتہ دو دنوں کے دوران ملک بھر سے ہزاروں افراد تہران میں واقع امام خمینیؒ مصلیٰ میں حاضر ہو کر انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کے جسدِ مطہر سے وداع کی تقریبات میں شرکت کر چکے تھے۔ ان تقریبات میں عوام کے ساتھ ساتھ ملکی اور عسکری حکام نے بھی شرکت کی اور شہید رہبر سے اپنی عقیدت و محبت اور گہرے غم کا اظہار کیا۔

آج بھی تہران صبح کی اولین ساعتوں سے ہی عوام کے ایک عظیم سمندر کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اشکبار آنکھوں اور حماسی نعروں کے ساتھ لوگ اپنے شہید رہبر کو آخری رخصت دے رہے تھے۔ پورے راستے میں انسانی ہجوم کی لہریں رواں تھیں اور نعروں کی صدائیں ایک لمحے کے لیے بھی خاموش نہ ہوئیں۔

سیل جمعیت در تهران؛ تشییع «آقای شهید ایران» با حضور میلیونی مردم

 

صبح سویرے سے عوام کی وسیع شرکت نے اتحاد، یکجہتی اور باہمی ہمدردی کی دلکش تصویریں رقم کیں۔ بہت سے شرکاء شدید گرمی اور طویل سفری مشقت برداشت کرکے اس تاریخی موقع میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔ انہوں نے اپنی بھرپور موجودگی سے تقریب کے مرکزی نعرے "باید برخاست" (اب اٹھ کھڑا ہونا ہوگا) کو عملی شکل دی اور اس عظیم اجتماع میں عوامی شرکت کی ایک یادگار تصویر تاریخ کے صفحات پر ثبت کر دی۔

بالآخر تقریب کے آغاز کے تقریباً چھ گھنٹے بعد شہید رہبر اور ان کے شہید اہلِ خانہ کے جسدِ مطہر کو لے جانے والی گاڑی عظیم عوامی ہجوم کے درمیان میدانِ آزادی پہنچ گئی، جہاں سوگواروں نے شہداء کے تابوتوں پر پھول نچھاور کرکے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔/

 

4362480

نظرات بینندگان
captcha