ایکنا نیوز- «﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾
"مؤمنوں میں کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ اپنی منزل پا چکے ہیں اور کچھ انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔"
(سورۂ احزاب: 23)»
تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ ایک فکر، ایک مکتب اور ایک تمدنی تحریک کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسے افراد کی رحلت یا شہادت کو صرف ایک فرد کا دنیا سے چلے جانا نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ پوری امت کے لیے امتحان، بیداری اور تجدیدِ عہد کا لمحہ بن جاتی ہے۔
اسلام کی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ جب رسولِ اکرم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اسلام ختم نہیں ہوا بلکہ امت کے امتحان کا آغاز ہوا۔ جب امیرالمؤمنین حضرت علیؑ شہید ہوئے تو عدالت کا چراغ بجھا نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ایک ابدی صدا بلند ہوئی۔ جب حضرت امام حسینؑ کربلا میں شہید ہوئے تو یزید کی تلوار نے جسم کو زخمی کیا، لیکن حسینی مکتب ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا
اسی طرح انقلابِ اسلامیِ ایران نے بھی دنیا کو یہ سبق دیا کہ قیادت صرف سیاسی اقتدار کا نام نہیں، بلکہ ایمان، بصیرت، استقامت اور امت کی فکری رہنمائی کا عنوان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابِ اسلامی کے ہر مرحلے میں ملتِ ایران نے اپنی وابستگی کو صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے عملی کردار سے ثابت کیا ہے۔
تشییع صرف ایک جنازے کو کندھوں پر اٹھانے کا نام نہیں۔ حقیقت میں یہ ایک ملت کی طرف سے اپنے عقیدے، اپنے راستے اور اپنی قیادت کے ساتھ وفاداری کے عہد کی تجدید کا اعلان ہوتا ہے۔ جب لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان اپنے تمام اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پرچم تلے جمع ہوتے ہیں تو وہ صرف ایک شخصیت کو رخصت نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ تاریخ کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ افکار، نظریات اور الٰہی تحریکیں افراد کی موت سے ختم نہیں ہوتیں۔
شہادت؛ قرآن کی نگاہ میں حیاتِ جاوداں اور ولایت کا ابدی سفر
«﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾
"اور جو لوگ راہِ خدا میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔"
(سورۂ آل عمران: 169)»
اسلام کی نگاہ میں شہادت زندگی کا اختتام نہیں بلکہ حیاتِ ابدی کا آغاز ہے۔ دنیا کی نگاہ میں شہید کا جسم مٹی کے سپرد ہوتا ہے، لیکن قرآن کی نگاہ میں اس کی روح قربِ الٰہی کی دائمی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے شہادت کو موت نہیں بلکہ کامیابی، عزت اور بقا کا نام دیا ہے۔
قرآنِ مجید نے صرف شہید کی حیات کا اعلان نہیں کیا بلکہ اہلِ ایمان کو یہ تعلیم بھی دی ہے کہ وہ شہادت کو شکست کی علامت نہ سمجھیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ﴾
"اور جو لوگ راہِ خدا میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم اس حقیقت کا شعور نہیں رکھتے۔"
(سورۂ بقرہ: 154)»
یہی وہ قرآنی فکر ہے جس نے بدر کے شہداء کو جاودانگی عطا کی، اُحد کے زخمیوں کو استقامت بخشی، اور کربلا کے میدان میں امام حسینؑ اور ان کے باوفا اصحاب کو ابدی عظمت سے ہمکنار کیا۔
شہادت؛ انبیاء و اولیاء کی میراث
الٰہی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حق کی راہ ہمیشہ قربانیوں سے روشن ہوئی ہے۔ حضرت زکریاؑ، حضرت یحییٰؑ، امیرالمؤمنین علیؑ، حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ کی زندگیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ اہلِ حق نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے شہادت کو اختیار کیا، مگر حق کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔
امیرالمؤمنین علیؑ نے فرمایا:
««والله لابن أبي طالب آنس بالموت من الطفل بثدي أمه.»»
"خدا کی قسم! ابو طالب کا بیٹا موت سے اس سے بھی زیادہ مانوس ہے جتنا شیرخوار بچہ اپنی ماں کے سینے سے۔"
یہ وہ مکتب ہے جس میں موت خوف کا عنوان نہیں بلکہ لقاءِ الٰہی کی تمنا ہے۔
ولایت؛ امت کی روح
اسلام میں امت کی بقا صرف افراد سے وابستہ نہیں بلکہ "ولایت" سے وابستہ ہے۔ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:
«﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا...﴾
"تمہارا ولی تو صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ اہلِ ایمان ہیں..."
(سورۂ مائدہ: 55)»
ولایت صرف حکومت یا اقتدار کا نام نہیں بلکہ امت کی فکری، روحانی اور اخلاقی رہنمائی کا عنوان ہے۔ جب امت اپنے ولی کے گرد جمع ہوتی ہے تو اس کی طاقت صرف عسکری نہیں رہتی بلکہ وہ ایمان، بصیرت اور وحدت کی قوت بن جاتی ہے۔
اسی حقیقت کو امیرالمؤمنینؑ نے نہج البلاغہ میں یوں بیان فرمایا:
««الزموا السواد الأعظم فإن يد الله مع الجماعة.»»
"جماعتِ مؤمنین کے ساتھ وابستہ رہو، کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔"
لہٰذا جب کوئی عظیم الٰہی رہنما اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اصل امتحان اس کی امت کا ہوتا ہے۔ اگر امت اپنے عہد، اپنے مقصد اور اپنے مکتب پر ثابت قدم رہے تو رہبر کا جسم تو مٹی میں اتر جاتا ہے، لیکن اس کا راستہ پہلے سے زیادہ روشن ہو جاتا ہے۔اور اس بات کا ثبوت امت اسلامی ایران نے متحد ہوکر دے بھی دیا
تشییع؛ خاموش بیعت کی بلند ترین صدا
اسلامی تہذیب میں بعض جنازے صرف تدفین کی رسم نہیں ہوتے بلکہ وہ پوری امت کی طرف سے اپنے نظریے اور اپنے راستے سے وابستگی کا اعلان ہوتے ہیں۔
جب لاکھوں انسان ایک رہبر کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو درحقیقت وہ ایک خاموش مگر مؤثر زبان میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ افراد رخصت ہو سکتے ہیں، مگر مکتب زندہ رہتا ہے؛ قائد دنیا سے جا سکتا ہے، مگر اس کے افکار قوموں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:
«﴿فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾»
یعنی اہلِ وفا میں کچھ اپنا عہد پورا کر کے رخصت ہو گئے اور کچھ اب بھی اسی عہد پر ثابت قدم ہیں۔ یہی تسلسل، امت کی حیات اور الٰہی تحریکوں کی بقا کا راز ہے۔
رہبرِ انقلاب؛ ایک شخصیت نہیں، ایک تمدنی مکتب
تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جنہیں صرف ان کے عہد کے تناظر میں نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ان کی فکر اپنے زمانے کی حدود سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ ایسے افراد کا وجود ایک شخص کی حیثیت سے ختم ہو جاتا ہے، مگر ان کا مکتب زمانے کی رفتار کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
انقلابِ اسلامیِ ایران کی کامیابی کے بعد امام خمینیؒ نے جس نظریۂ ولایتِ فقیہ کو عملی صورت عطا کی، اس کی بقا، استحکام اور عالمی تعارف کا عظیم ترین مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب قیادت ایک ایسے فقیہ کے سپرد ہوئی جس نے فقاہت، بصیرت، حکمت، شجاعت اور استقامت کو ایک شخصیت میں جمع کر دیا۔
رہبرِ انقلاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے انقلاب کو صرف ایران کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے ایک تمدنی فکر (Civilizational Thought) میں تبدیل کیا۔ ان کی نگاہ میں انقلاب صرف حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں تھا، بلکہ انسان کی فکر، ثقافت، معیشت، تعلیم، میڈیا، دفاع اور اخلاق کی اصلاح کا ایک ہمہ گیر منصوبہ تھا۔
وہ ہمیشہ اس حقیقت پر زور دیتے رہے کہ اگر کوئی امت علمی میدان میں دوسروں کی محتاج رہے تو وہ سیاسی آزادی بھی زیادہ دیر برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اسی لیے انہوں نے بارہا فرمایا کہ حقیقی استقلال کا راستہ علم، ایمان اور خود اعتمادی سے گزرتا ہے۔
ان کی قیادت کا ایک نمایاں پہلو وحدتِ امت تھا۔ اگرچہ وہ فقہِ جعفری کے عظیم مرجع تھے، لیکن انہوں نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے مشترکات کو اختلافات پر ترجیح دی۔ ان کے نزدیک شیعہ اور سنی کا باہمی احترام، فلسطین کی آزادی، استکبار کے مقابلے میں استقلال، اور اسلامی بیداری، پوری امت کے مشترکہ اہداف تھے۔
انہوں نے بارہا اس قرآنی فرمان کو اپنی سیاسی فکر کا محور بنایا:
«﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾»
"سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔"
یہی وجہ ہے کہ ان کی تقاریر میں "امتِ اسلامی" کا لفظ "قوم" سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی فکر کی سرحدیں ایران پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ قدس، غزہ، لبنان، عراق، یمن، افغانستان، اور دنیا کے ہر مظلوم انسان تک پہنچتی ہیں۔
رہبرِ انقلاب نے ہمیشہ یہ واضح کیا کہ طاقت صرف اسلحے کا نام نہیں بلکہ ارادے کی قوت کا نام ہے۔ اگر کسی ملت کے ایمان کو شکست نہ دی جا سکے تو اس کی فوجی شکست بھی دائمی نہیں ہوتی۔ یہی فلسفہ "مقاومت" کی بنیاد بنا، جس نے دنیا کی سیاسی لغت میں ایک نئی اصطلاح کو جنم دیا۔
لیکن ہر الٰہی تحریک کی طرح اس راستے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ قرآن مجید نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا:
«﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾»
"کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ صرف یہ کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لائے ہیں، انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟"
لہٰذا جب ایک الٰہی رہبر اپنی پوری زندگی حق، استقلال اور امت کی عزت کے لیے وقف کر دیتا ہے تو اس کی ظاہری جدائی دراصل اس کے افکار کی نئی زندگی کا آغاز بن جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جسم دفن ہوتے ہیں، لیکن نظریات دفن نہیں ہوتے؛ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، مگر ان کا پیغام نسلوں کے ضمیر میں گونجتا رہتا ہے۔
اسی لیے عظیم رہنماؤں کی تشییع کو صرف ایک سوگوار اجتماع نہیں سمجھنا چاہیے۔ حقیقت میں یہ ایک تمدنی اعلان ہوتا ہے کہ ملت اپنے قائد سے بچھڑ ضرور گئی ہے، لیکن اس کے راستے سے منحرف نہیں ہوئی۔ یہ منظر دنیا کو بتاتا ہے کہ محبت کا رشتہ صرف زندگی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وفاداری موت کے بعد بھی اپنا عہد نبھاتی ہے۔
شاید اسی حقیقت کو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
اور جب ایسا دیدہ ور رخصت ہوتا ہے تو اس کے چاہنے والوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ صرف آنسو بہائیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے فکر و مکتب کو زندہ رکھیں، کیونکہ افراد کے مر جانے سے فکریں نہیں مرتیں اگر قوم بیدار اور رھبر مخلص ہو.
تشییع؛ اختتامِ سفر نہیں، آغازِ ذمہ داری
ہر عہد میں تاریخ نے دو طرح کے جنازے دیکھے ہیں۔ کچھ جنازے ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ ایک دور دفن ہو جاتا ہے، اور کچھ جنازے ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ ایک نیا دور جنم لیتا ہے۔ پہلے جنازوں پر صرف آنسو بہائے جاتے ہیں، جبکہ دوسرے جنازے قوموں کے ضمیر کو بیدار کر دیتے ہیں۔
اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اہلِ حق کی جدائی پر غم فطری ہے، لیکن غم اگر ذمہ داری میں تبدیل نہ ہو تو وہ اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتا۔ حضرت زینبؑ نے کربلا میں صرف مصیبت کو برداشت نہیں کیا، بلکہ اسے پیغام میں بدل دیا۔ حضرت امام سجادؑ نے صرف شہداء پر گریہ نہیں کیا، بلکہ ان کی قربانی کو تاریخ کی دائمی آواز بنا دیا۔
یہی وجہ ہے کہ ہر عظیم رہبر کی یاد منانے کا بہترین طریقہ صرف اس کی شخصیت کی تعریف نہیں، بلکہ اس کے اصولوں کو اپنی زندگی میں زندہ کرنا ہے۔ اگر اس نے علم کی دعوت دی تو علم حاصل کرنا ہماری ذمہ داری ہے؛ اگر اس نے اتحاد کا پیغام دیا تو اختلافات کو کم کرنا ہماری ذمہ داری ہے؛ اگر اس نے ظلم کے مقابلے میں استقامت سکھائی تو حق پر ثابت قدم رہنا ہماری ذمہ داری ہے۔
قرآن مجید اہلِ ایمان کو یاد دلاتا ہے:
«﴿وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ﴾
"یہ دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔"
(سورۂ آل عمران: 140)»
اشخاص بدلتے ہیں، زمانے بدلتے ہیں، حکومتیں بدلتی ہیں، لیکن حق اور باطل کی کشمکش باقی رہتی ہے۔ اسی لیے قرآن کا مطالبہ یہ نہیں کہ ہر دور میں ایک ہی شخصیت موجود ہو، بلکہ یہ ہے کہ ہر دور میں حق کا پرچم بلند رکھنے والے موجود رہیں۔
اگر کسی ملت کی وابستگی صرف افراد سے ہو تو افراد کے جانے کے ساتھ اس کا حوصلہ بھی ختم ہو جاتا ہے، لیکن اگر اس کی وابستگی اصولوں، اقدار اور الٰہی ہدایت سے ہو تو وہ ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتی ہے۔
لہٰذا ہر عظیم تشییع کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ جنازے کندھوں پر اٹھائے جاتے ہیں، مگر ذمہ داریاں دلوں پر رکھی جاتی ہیں۔ آنکھیں اشکبار ہو سکتی ہیں، لیکن ارادے کمزور نہیں ہونے چاہییں۔ ہاتھ دعا کے لیے اٹھیں، مگر وہی ہاتھ تعمیر، خدمت اور دفاعِ حق کے لیے بھی آمادہ رہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف تاریخ نہ پڑھائیں بلکہ تاریخ بنانے والے اصول بھی سکھائیں؛ صرف شخصیات سے محبت نہ کریں بلکہ ان کے اخلاق، بصیرت، تقویٰ، علم اور خدمت کے جذبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی کسی بھی عظیم رہبر کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
آخر میں اسی دعا کے ساتھ اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو بصیرت، وحدت، استقامت اور اخلاص عطا فرمائے، ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا:
«﴿رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾»
خداوندا!
ہمیں شخصیت پرستی نہیں، حق پرستی عطا فرما۔
ہمیں جذبات نہیں، بصیرت عطا فرما۔
ہمیں خاموش تماشائی نہیں، حق کے وفادار سپاہی بنا۔
اور ہمارے دلوں کو ہمیشہ قرآن، اہلِ بیتؑ اور راہِ حق کے ساتھ وابستہ رکھ۔
بقلم: احمد رضا رضوی زرارہ