ایکنا نیوز- خبررساں ادارے yeniakit کے مطابق اس تاریخی مسجد کی بحالی کا منصوبہ 2005 سے محکمہ اوقاف کی نگرانی میں مسلسل جاری تھا، جو 2025 میں مکمل ہوا۔ گزشتہ روز جمعہ، (26 جون) کو تمام تفصیلات کی تکمیل کے بعد صوبہ گوموش خانہ کے مفتی خیری ارنای کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کرکے مسجد کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خیری ارنای نے کہا کہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس مسجد کی عمر تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے۔ یہ عمارت سلجوقی طرزِ تعمیر کی ایک اہم اور نادر مثال ہے اور خوش قسمتی سے اپنی اصل ساخت کا بڑا حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسجد اپنی تاریخی اصالت کو برقرار رکھتے ہوئے آج تک قائم ہے۔ مربع نقشے پر تعمیر کی گئی یہ عمارت سلجوقی اور دانشمندی (دانشمند) طرزِ تعمیر کی نمایاں نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔ 1914 تک یہاں باقاعدگی سے عبادات کا سلسلہ جاری رہا، تاہم بعد ازاں مختلف وجوہات کی بنا پر اسے بند کر دیا گیا۔
مفتی گوموش خانہ نے اس بات پر زور دیا کہ بحالی کا تمام کام مسجد کے اصل ڈیزائن اور تاریخی تشخص کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا گیا تاکہ اس کی قدیم حیثیت محفوظ رہے۔

خیری ارنای نے مسجد کوچوک کی دوبارہ افتتاحی تقریب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک صدی سے زائد عرصے تک غیر فعال رہنے کے بعد اس مسجد کی واپسی مقامی آبادی کے لیے ایک فعال عبادت گاہ کے طور پر اس کے کردار کو دوبارہ زندہ کرے گی۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا: ان شاء اللہ، آج کے بعد یہاں باقاعدگی سے نمازیں اور دیگر عبادتی مراسم ادا کیے جائیں گے۔ ہم نے اس عبادت گاہ کو، جو برسوں سے نظرانداز تھی، دوبارہ نمازِ باجماعت کے ذریعے آباد کیا ہے اور مقامی لوگوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام افراد سے راضی ہو جنہوں نے اس عظیم کام میں اپنا کردار ادا کیا۔/

4360611