
المصری الیوم نیوز کے مطابق مصری پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کمیٹی کے ڈپٹی ایمن ابوالعلا نے
مصری وزیراعظم مصطفی المدبولی سے مطالبہ کیا کہ ایک ممنوعہ میڈیسن کے لیے سیٹلائیٹ ٹی وی پر قرآنی آیات کا حوالہ کیوں دیا جاتا ہے۔
ابوالعلاء کا کہنا تھا: افسوس کی بات ہے کہ قانون کی موجودگی میں جہاں شق ۲۰۶ میں صحت کی مصنوعات کی تشہیر کا زکر کیا گیا ہے بعض لوگ ان میڈیسن کی تشہیر میں لگا ہوا ہے جس کا معاشرے پر غلط اثر واضح ہے۔
مصری رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا: اب تو لوگوں کو قایل کرنے کے لیے ان کی تشہیر میں قرآنی آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
انکا کہنا تھا: ایک سیٹلائیٹ چینل پر قرآن کریم کو ہاتھوں میں اٹھا کر قسم کھایا جاتا ہے کہ اس کو شوگر سے نجات اسی دوائی کی وجہ سے ملی ہے جبکہ بعض اشتہارات میں آیات کی مدد لی جاتی ہے۔

ابوالعلاء کا مزید کہنا تھا: اس طرح کے اشتہارات سے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے جب کہ غیر معیاری ادویات کے استعمال سے لوگوں پر منفی اثرات کا الگ معاملہ ہے۔
مصری میڈیا کونسل نے ستمبر ۲۰۲۱ کو صحت کی مصنوعات میں تاکید کی تھی کہ اشتہارات کے دوران قانون کا پاس رکھا جائے۔
کونسل نے تاکید کی تھی کہ ہر قسم کی شکل میں کسی طرح سے بھی ان ادویات کو پیش کرنا چاہے علاج یا طاقت کے حوالے سے وہ اس قانون کے زمرے میں شامل ہیں۔