
ایکنا انٹرنیشنل ڈیسک کے مطابق اتوار کے روز کانپور پولیس نے 8 رکنی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جس کی سربراہی ڈی سی پی سنجیو تیاگی کر رہے ہیں۔ ٹیم جمعے کے روز شہر میں ہونے والے فسادات پر تفتیش کرے گی۔
بعد ازاں کانپور پولیس نے مزید 3 ایس آئی ٹیز تشکیل دے دیں جن کا کام 8 رکنی مرکزی تفتیشی ٹیم کی معاونت کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج اور کیس کے دیگر شواہد پر تحقیقات کرنا ہے۔ پولیس نے فسادات میں مبینہ طور پر ملوث مزید 7افراد گرفتار کر لیے۔
قبل ازیں کانپور پولیس 22افراد کو حراست میں لے چکی تھی، 7 مزید گرفتاریوں سے زیرِ حراست افراد کی تعداد 29تک جا پہنچی۔ جمعے کے روز کانپور کے علاقے بکن گنج میں فسادات بی جے پی رہنما نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کے بعد شروع ہوئے۔
حکمراں سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما نوپور شرما نے ٹی وی پر بات کرتے ہوئے 27 مئی کے روز گستاخانہ بیان دیا جس پر ہونے والے فسادات کے دوران بھارتی پولیس کے اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ فسادات پر تفتیش تاحال جاری ہے۔
دریں اثناء مقامی عدالت نے 4 افراد کو گرفتاری کے بعد جمعے کے روز شروع ہونے والے فسادات کی سازش کرنے کے الزام میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دے دیا۔ چاروں افراد کوجمعہ کے روز ہی لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا (انڈین ایکسپریس) کے مطابق گرفتار کیے گئے چاروں افراد کا تعلق ایم ایم اے جوہر فینز ایسوسی ایشن سے ہے جن میں قومی صدر حیات جعفر ہاشمی، یو پی چیئرمین جاوید محمد خان، رکن محمد راحیل اور محمد سفیان شامل ہیں۔