
ایکنا انٹرنیشنل ڈیسک کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں گزشتہ رات کی درمیانی شب مسلسل خطرے کی گھنٹی بجنے سے علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ سائرن کل رات کئی بار بجے۔ پانچ بڑے صہیونی شہروں میں 50 منٹ تک سائرن بجتے رہے اور صرف ایک شہر میں 30 ہزار لوگوں نے پناہ لی۔
صیہونی ہر بار اس وہم کے تحت پناہ گاہوں میں جاتے تھے کہ ایران یا دیگر مزاحمتی گروہ میزائل داغنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس حقیقت کے باوجود کہ صہیونی حکام بشمول اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ خطرے کے الارم بجنے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، پھر آدھی رات کو دوبارہ سائرن بج گئے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے علاوہ ایلات، ہولون، اشکلون اور اشدود سمیت دیگر شہروں میں سائرن بجائے گئے تھے۔
مقبوضہ علاقوں کے حکام اور مکینوں کے لیے اہم ترین سوال یہ ہے کہ سائرن کی کون سی آواز حقیقی ہے اور انہیں پناہ گاہوں میں جانا چاہیے اور کون سی غیر حقیقی؟ اس معاملے نے ان میں ایک عجیب الجھن پیدا کر دی ہے۔