
ایکنا نیوز- جب خدا کے بھیجے گیے رسول انسانوں کی ہدایت کے لیے آنے لگے تو لوگوں نے پہلا مطالبہ یہی کیا کہ وہ ایک غیرمعمولی کام یا معجزہ پیش کریں تاکہ وہ خدا کی قدرت پر ایمان لائے اور انکی باتوں کو تسلیم کریں۔
انبیاء سے بہت سے مجعزات دیکھے گیے جو انہوں نے پیش کیے تاہم خدا کی جانب سے رسولوں کو ارسال کرنے کا سلسلہ بند ہوا تو یہ کام بھی رک گیا، تاہم اسکے باوجود انسان کے اطراف میں بہت سے ایسے غیرمعمولی کام ہوتے رہتے ہیں کہ اگر ان پر غور کیا جائے تو ہر ایک غیرمعمولی ہے اور ان میں سے ایک خود " انسان" ہے۔
تاہم انسان کسطرح سے معجزہ ہے ؟ انسان کی خلقت کا پہلا مادہ بدبودار کیچڑ اور گارھے سے ہے اور قرآن کریم میں اس پر اشارہ ہوا ہے:«وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ؛
اور ہم نے انسان کو خشگ گارے اور بدبودار کیچڑ والی مٹی سے خلق کیا» (حجر/ 26).
ایسی ہستی جس کی ابتدا بدبودار اور کالی مٹی سے بنی اور پھر نطفه اور دیگر مراحل طے کرتے ہوئے مکمل ہوئی بہت سے نشانیاں ہیں۔
قرآن کریم انسان کو دعوت دیتا ہے کہ اپنی خلقت میں غور کریں؛ لگتا ہے کہ اگر ہم معجزے طلب کرنا چاہتے ہیں تو اپنی خلقت میں غور کرنا ہی کافی ہے: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ:
اے لوگوں اگر تم اٹھانے پر شک ہے تو (جان لو) کہ ہم نے تمھیں مٹی سے بنایا پھر تمھیں نطفے میں قرار دیا اور پھر علقہ، پھر مضغہ اور ناقص خلقت سے تم پر (اپنی قدرت) واضح کیا اور جو ہم ارادہ کرتے ہیں ایک خاص مدت تک تمیں رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمھیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں پھر(تم زندگی جاری رکھتے ہو) تاکہ ایک خاص حد تک رشد ملے اور پھر کچھ لوگوں کو
[کچھ جلدی] میں واپس بلاتے ہیں اور کچھ دیگر اس عمر کو پہنچتے ہیں کہ کچھ جاننے کے بعد دوبارہ ان کو بھول جاتے ہو ، زمین کو مردہ سمجھتے ہو تاہم پانی ملنے پر دوبارہ زندہ ہوتی ہے اور قسم قسم کے [پروان چڑھنے والے] پروان چڑھتے ہیں» (حج/ 5).