تعصب اور ضدبازی حققیت کو درک کرنے میں بڑی رکاوٹ

IQNA

تعصب اور ضدبازی حققیت کو درک کرنے میں بڑی رکاوٹ

8:36 - September 05, 2022
خبر کا کوڈ: 3512653
ایکنا تہران- تعصب و ضدبازی وہ صفت ہے کہ اگر کسی انسان میں موجود ہو تو وہ کبھی حقیقت کو درک نہیں کرسکتا۔

ایکنا نیوز- بلاشک خدا کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور خاضع و خاشع ہونا دین کی بنیاد ہے اور اس کے برعکس ہر قسم کی ضد بازی اور تعصب برتنا حق سے محرومی اور سعادت و خوشبختی سے دوری ہے۔

تعصب کا معنی «کسی چیز سے غیرمنطقی وابستگی‏» ہے یہانتک کہ انسان حق کو کو اس پر فدا کرتا ہے اور ضدبازی سے عقل کو پامال کرتا ہے، تاریخ میں اقوام کی گمراہی کی اہم ترین وجہ تعصب اور اندھی تقلید رہی ہے کہ لوگوں نے خرافات اور غیرمنطقی وابستگی کی بناء پر دوسروں کی تقلید پر اصرار کیا اور نسل در نسل گمراہی پر قائم رہے اور انبیاء کی کوشش بار آور ثابت نہ ہوسکی۔

 

تاریخ کی ایک اہم داستان میں  داستان نوح(ع) ہے کہ اس دور کے بت پرست افراد نے اس قدر ضد بازی کا مظاہرہ کیا کہ حق کے آواز تک سننے سے وحشت محسوس کرتے تھے جیسے نوح کی زبان سے کہا گیا : «وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا:

ترجمہ: اور میں ہر بار جو انکو دعوت دی انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس دی اور سر پر چادر ڈال دی اور اصرار کے ساتھ خود پسندی و خود فخری پر اضافہ کرتے رہیں » (نوح/۷).

ضد بازی و نادرست عقاید پر اصرار عقل و فکر کی راہ پر رکاوٹ کھڑی کردیتا ہے اور اس صورت میں کان اور آنکھ دونوں حقیقت کو درک کرنے سے محروم رہتے ہیں اور قرآن مجید اس کو یوں بیان کرتا ہے: «صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ: كرند لالند كورند [و] درنمى‏ يابند» (بقره/ 171).

نظرات بینندگان
captcha