
ایکنا نیوز- مثالی معاشرہ ایک نمونہ ہے جس کے لیے مغربی فلاسفروں نے مختلف نقشے پیش کیے ہیں جس میں خاص طرز زندگی پوشیدہ ہے۔
«مدینةالنبی» ایک مثالی شہر ہے جس کو رسول گرامی (ص) نے قایم کیا ہے. جھان بینی یا دنیا پر نظر کے لیے آنحضرت نے بطور ایک نظریہ پرداز نے مدینہ کی ظاہری اور باطنی ساخت کی ایسی تعمیر کی جو صرف مدینہ سے مخصوص نہ تھی بلکہ دنیا کی تعمیر کے لیے مفید ہے۔
شھر نبی گرامی یا «مدینة النبی» جس کے معیارات کو نبی خاتم النبی نے قایم کیے اس کے لیے ہم تین معیار اور ایک مقصد کو نمایاں دیکھتے ہیں تین معیاروں میں : حکمتگرایی، عفتگرایی اور عدالتمحوری ہے۔
ان معیاروں کا اہم ترین مقصد یہ تھا کہ «قولوا لا اله الا الله تفلحوا» یعنی خدا کی توحید اور معنویت پر توجہ۔
حکمتگرایی
حکمت کا مطلب ایسا علم یا نور ہے جو اپنے مالک کے دل میں اچھے اور برے کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس کی مدد سے تزکیہ و تربیت حاصل ہوتی ہے۔
عفتگرایی
اسلام میں مرد و زن کو عفت یعنی شرم و حیا کا پابند قرار دیا گیا ہے عفت گرایی ایسی طاقت ہے جس پر عمل سے انسان ناجایز خواہشات کے مقابل کے مقابل خود کو کنٹرول کرسکتا ہے اور معاشرے میں بے حیائی کے اثرات سے معاشرے کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
عدالتمحوری
اسلامی تمدن میں عدل یا عدالت ایک اہم ترجیح اور معیار ہے یعنی جسقدر معاشرے میں عدل و انصاف کا راج ہوگا اسی قدر معاشرہ اسلامی ہوگا۔ اس مسئلے کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسلامی تعلیمات میں علما نے انبیاء کے کام کو دو حصوں میں منحصر قرار دیا ہے ایک عبادت کی دعوت اور دوسرا عدالت کا قیام۔
* کتاب «طرز زندگی، عصر حاضر کا اہم ترین ایشو» بقلم حجتالاسلام حسین عباسیاصل