جلوسِ عید میلاد النبیؐ میں پیار ومحبت کے فروغ کا پیغام

IQNA

جلوسِ عید میلاد النبیؐ میں پیار ومحبت کے فروغ کا پیغام

12:47 - October 13, 2022
خبر کا کوڈ: 3512869
ایکنا تھران- خلافت ہاؤس سے نکلنے والے مرکزی جلوس میں شرکاء کا اژدہام، جگہ جگہ استقبال، درگاہ اجمیری ؒ کے سجادہ نشیں نےقیادت کی ، تشار گاندھی نےجلوس کو ہندو مسلم اتحاد کی علامت قرار دیا۔

انقلاب نیوز کے مطابق خلافت ہاؤس سے نکلنے والے مرکزی جلوس میں شرکاء کا اژدہام، جگہ جگہ استقبال، درگاہ اجمیری ؒ کے سجادہ نشیں نےقیادت کی ، تشار گاندھی نےجلوس کو ہندو مسلم اتحاد کی علامت قرار دیا۔

 ایسے وقت میں جبکہ ملک میں نفرت پھیلا کر  سماج میں انتشار پیدا کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں، اتوار کو خلافت ہاؤس سے نکالے گئے عید میلادالنبی ؐ کے جلوس میں محبت کو عام کرنے اوراس کے ذریعہ نفرت کا مقابلہ کرنے پر زور دیاگیا۔ مسلسل ۱۰۳؍ برسوں سے خلافت ہاؤس سے نکلنے والے مرکزی جلوس میں امسال بھی سابقہ برسوں کی طرح شرکاء کا اژدہام نظر آیا جن کا جگہ جگہ شاندار خیرمقدم کیاگیا۔ جلوس کی قیادت درگاہ اجمیری کے سجادہ نشیں سید واجد حسین چشتی نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی شریک ہوئے ۔ تشار گاندھی نے جلوس کو ہندومسلم اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے مل کر نفرت کی سیاست کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ اس سے قبل اس تاریخی جلوس کی قیادت مختلف شعبہ ہائے حیات کی ممتاز اور قدآور شخصیات کر چکی ہیں۔ 

جلوس سے قبل خلافت ہاؤس میں جلسہ

  حسب روایت امسال بھی جلوس برآمد ہونے سے قبل خلافت ہاؤس میں جلسے کا‌ اہتمام کیا گیا جس میں مقررین نے حضور اکرم ؐ کی بعثت سے قبل کی بد حال دنیا اور آپ کی تشریف آوری کے بعدکی دنیا میں رونما ہونے والے انقلابات پر روشنی ڈالی اور برملا کہا کہ آپؐ نے ہر اعتبار سے ایسے لاثانی ولافانی نقوش چھوڑے ہیں کہ دنیا قیامت تک اس کی ادنیٰ نظیر پیش کرنے سے قاصر وعاجز رہے گی۔ شرکاء جلوس کی کثرت کے مناسبت سے پولیس کا سخت پہرہ تھا اور ٹریفک میں کسی طرح کا‌ خلل نہ ہو اور راستے میں گاڑیاں وغیرہ کھڑی نہ رہیں اس کیلئے پولیس کے جوان پہلے سے ہی متحرک نظر آئے۔

’’ملک کیلئے سب سے بڑا خطرہ نفرت ہے‘‘

 گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’ یہ میرے لئے بڑی خوشی کی بات ہے اور تاریخی موقع ہے کہ جس تاریخی جگہ سے میرے پردادا جڑے تھے ، آج میں بھی اس کا حصہ بن رہا ہوں۔ یہ خلافت ہاؤس ہندو مسلم اتحاد کی ایک علامت ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کوشش کریں کہ ایک دفعہ پھر یہ خلافت ہاؤس گنگا جمنی تہذیب، محبت کو بڑھانے اور نفرت کو مٹانے کا مرکز بنے۔‘‘ موجودہ حالات پر انہوں نے کہا کہ ’’آج ملک میں ہر جگہ نفرت کا م حول ہے۔ ملک کو اور جمہوریت کو اسی نفرت سے سب سے زیادہ خطرہ ہے ، اسے مٹانا ہوگا ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔‘‘ انہوں نے متنبہ کیا کہ ’’ ہم یاد رکھیں کہ نفرت کا خاتمہ محبت اور پیار سے ہوگا ، نفرت سے سب سے زیادہ خطرہ ہے ، اسے مٹانا ہوگا ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔‘‘ انہوں  نے متنبہ کیا کہ ’’ ہم یاد رکھیں کہ نفرت کا خاتمہ محبت اور پیار سے ہوگا ، نفرت کا زہر نفرت سے ختم نہیں ہوگا بلکہ محبت سے اس کو مٹایا جاسکے گا۔ ‘‘ نبی کریمؐ کی تعلیمات کو غیر مسلموں  تک پہنچانے کیلئے شروع کی گئی تحریک  ’’پرافیٹ فار آل‘‘ (نبی ٔ رحمت ؐ سب کیلئے)کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ کیوں نہ پرافٹ فار آل کے بجائے ہم’ آل فار پروفیٹ‘  مہم شروع کریں۔‘‘ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آپؐ کی تعلیمات سب کیلئے ہیں، تشار گاندھی نے کہا کہ ’’میں محمد ہوں ، رام ہوں یا کرشن ہوں،  پیغمبر محمد ؐ سب کے ہیں، کسی خاص طبقے یا دھرم کے نہیں ہیں۔ ‘‘تشار گاندھی نے یہ بھی کہا کہ’’ ہم لوگ نفرت چھوڑو آئین بچاؤ مہم کے تحت جلد ہی تحریک شروع کریں گے ، اس کے تحت مختلف پروگرام اور جلسے وجلوس ہوں گے ۔آپ اس سے جڑیں، اس کو طاقت دیں اور یہ بتائیں کہ نفرت کے مقابلے  کیلئے امن کے سفیروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔‘‘

’ عید میلاد  انسا نیت کی آزادی کا دن‘

 اجمیر شریف درگاہ کے سجادہ نشین سید واجد حسین چشتی، جنہوں نے تاریخی جلوس کی قیادت کی،  نے کہا کہ’’ آج(عید میلاد النبی ؐ)  انسانیت کی آزادی کا دن ہے، آپؐ نے دبی کچلی انسانیت کو آزادی دلائی۔ آپ نے انسانیت اور امن ومحبت کا‌پیغام دیا۔ یہی پیغام خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے بھی دیا۔ ‘‘ انہوں نےنصیحت کی کہ’’ ہم حضورؐ کی سیرت اور تعلیمات کو اپنائیں اور اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں۔ امن ومحبت اور بھائی چارہ کو بڑھائیں، یہی صوفیائے کرام کی بھی تعلیم تھی اور یہی پیغام درگاہ خواجہ غریب نوازؒ کے آستانے سے عام کیا جاتا ہے ، اسی سبب خواجہ کا آستانہ مرجع خلائق ہے۔ ‘‘

ڈی جے کی رقم رفاہی کاموں میں 

 اقبال میمن آفیسر نے کہا کہ’’ اس جلوس عید میلادالنبی میں ہم ایسا نمونہ بنیں جس سے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ جب امتی ایسے ہیں تو نبی ؐ کیسے رہے ہوں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری میمن جماعت نے ڈی جے پر مکمل پابندی لگادی ہے اور ڈی جے کی جو رقم بچے گی وہ قوم کے بچے اور بچیوں کی تعلیم اور شادی بیاہ میں کام آئے گی۔ 

 

 

نظرات بینندگان
captcha