ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، عقیدے کے سبب گرفتار ہونے والوں کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ٹروریزم کے مقدمات سے متعلق اسپیشل فوجداری عدالت نے استنبول ترکی کی مسجد ایاصوفیہ کے نمازیوں کی 8 سال امامت قبول کرنے کے جرم میں عبد اللہ بصفر کو 12 سال جیل کی سزا سنا دی ہے۔اس ٹوئیٹر اکاؤنٹ نے بصفر پر لگے ان الزامات کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا جن کی وجہ سے ان کو سزا دی گئی ہے۔
سعودی حکومت نے ماہ اگست 2020 میں اپنے سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں کے درمیان مشہور قاری قرآن عبد اللہ بصفر کو گرفتار کرلیا تھا جو کہ جدہ میں ملک عبد اللہ یونیورسٹی کے شعبہ شریعت کے استاد اور قرآن و سنت عالمی یونین کے سابق جنرل سکریٹری ہیں۔
سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کے مسائل کو دیکھنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اسی وقت اعلان کیا تھا کہ عبد اللہ بصفر سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو چلانے کے جرم میں مشہور قاری عامر مہلہل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
عبد اللہ بصفر کے خلاف عدالتی حکم کے ساتھ ساتھ دوسرے درجنوں سیاسی اور سماجی کارکنوں کے خلاف بھی سعودی عدالت نے بھاری سزائیں سنائی ہیں۔
2017 کی گرمیوں میں اپنے چچازاد بھائی محمد بن نائف کے خلاف بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آنے والے «محمد بن سلمان» کے حاکم ہونے کے بعد سے سعودی حکمرانوں نے مذہب، میڈیا، یونیورسٹی، اور سوشل میڈیا سے متعلق شخصیتوں کو آزادی بیان کی بنیادوں پر گرفتار کیا ہے۔
یہ گرفتاریاں عدالتی حکم یا گرفتاری وارنٹ کے بغیر ہی اغوا جیسے انداز میں ہوتی ہیں اور قیدی اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنے یا اپنے مقدمہ کے لئے کوئی وکیل لینے سے محروم ہوتا ہے۔
اس وقت مبلغین، مفکرین، مصنفین اور سماجی کارکنوں کی اچھی خاصی تعداد آل سعود کے زندان میں ہے۔
4091760