
ایکنا نیوز- امام علی(ع) خطبه متقین میں انکے اوصاف بارے یوں فرماتے ہیں: «اپنے کانوں کو وقف کو مفید عمل سننے کے لیے وقف کردیا ہے». اس مختصر جملے میں اہم نکات پوشیدہ ہیں؛ پہلا یہ کہ عاقل انسان اپنے کانوں کو ہر فضول بہیودہ باتوں کے لیے کھلا نہیں رکھتا. یہ خدا کی ایک بہترین نعمت ہے۔
قرآن کریم کے مطابق قیامت میں اہل جہنم کہتے ہیں: «وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ؛ اگر ہم دنیا میں (انبیا کی باتوں) سنتے یا عقل کے فرمان پر عمل کرتے (آج) اہل جہنم نہ ہوتے» (ملک/ ۱۰) قرآن کے مطابق ان افراد نے کانوں میں روئے ٹھونسا تاکہ حق کی بات نہ سن سکے۔
امیرالمؤمنین(ع) فرماتے ہیں: «اے لوگوں جو ضروری باتیں تمھارے لیے لازم ہیں بتا دی گیی ہیں بشرط کہ آنکھیں کھول کر دیکھو اور تمام باتیں سنا دی گیی ہیں بشرطیکہ اپنے کان کھول کر سنو»
حضرت امیرالمؤمنین(ع) فرماتے ہیں کہ ہدایت کا روشن راستہ کھلا ہے اور خدا ہدایت کرنے والا اور قرآن کتاب ہدایت ہے لہذا اس کو سننے، اسمیں غور کرنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔/
* ماہر و محقق کتاب نہج البلاغہ سیدحمید خویی کی گفتگو سے اقتباس