
ایکنا- الجزیرہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سویٹزرلینڈ میں مسلمان خواتین کے نقاب اوڑھنے پر پابندی کے لئے ایک قانون نافذ کیا جارہا ہے اس طرح سے کہ جو خاتون بھی اس کو توڑیں ان پر ایک ہزار ڈالر کا جرمانہ لگے۔
سوئٹزرلینڈ کی سرکار نے بدھ کو پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس کی بنیاد پر جو شخص بھی"چہرہ چھپانے کی ممانعت" کے قانون کو توڑے اس کو نقدی جرمانہ دینا پڑے۔ قرار پایا ہے کہ یہ بل پارلیمینٹ میں بحث اور رائے گیری کے لئے پیش کیا جائے۔
اس قانون کے مطابق عام جگہوں پر چہرہ چھپانا منع ہے اور آنکھ، ناک اور مجھ کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔
یہ قانون ہر اس عام یا خاص جگہ نافذ ہوگا جو لوگوں کی دسترس میں ہے جیسے مدارس، عدالتیں، اسپتال، عام نقل و حمل کے وسائل اور اسی طرح ریسٹورینٹ، دوکان، سینما گھر اور ورزشی ہال وغیرہ۔
مارچ 2021 میں رائے دہندگان نے ایک لازم العمل ریفرینڈم میں ایک کمزور اکثریت سے چہرہ چھپانے کی ممانعت کے بارے میں کٹر دائیں جماعت کی تجویز سے اتفاق کیا۔
اس رائے شمارہ کی تجویز دینے والی دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی وہی گروہ ہے جو 2009 میں مسجدوں کی نئی میناروں کی تعمیر کے خلاف سرگرم تھا اور اس سلسلہ کی رائے شماری کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا۔
سوئٹزرلینڈ کی سماجی شخصیات اور وہاں کے اسلامی بزرگان "چہرہ چھپانے کی ممانعت" کے قانون کے مخالف ہیں اور اس کو"برقع کی ممانعت" یا "نقاب کی ممانعت" کا قانون کہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا نشانہ، مسلمان باحجاب خواتین ہیں۔
4091892