ایکنا- الجزیرہ نیوز کے مطابق بنگلہ دیشی پولیس نے اعلان کیا کہ روہنگیا مسلم اقلیت کے دو رہنماؤں کو جنوب مشرقی بنگلہ دیش کے ایک پناہ گزین کیمپ میں چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا۔اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کی جنوب مشرقی سرحد پر واقع ’کاکس بازار‘ کے علاقے میں تقریباً 10 لاکھ روہنگیا مسلمان 30 سے زائد کیمپوں میں مقیم ہیں۔ خطے میں روہنگیا تنظیموں کے درمیان سیاسی دشمنیوں کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ بنگلہ دیش پولیس کے ترجمان فاروق احمد نے کہا: یہ دونوں روہنگیا رہنما بنگلہ دیش کے جنوب مشرق میں ککس بازار کے کیمپ نمبر 13 میں مارے گئے۔ انہوں نے بیان کیا: 12 سے زائد افراد نے 38 سالہ مولوی محمد یونس کو جو کیمپ نمبر 13 کے رہنما تھے، کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ 38 سالہ محمد انور روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک اور رہنما ہیں جو ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد انتقال کر گئے۔بنگلہ دیش میں ایک اہلکار کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ روہنگیا اراکان سالویشن آرمی کے نام سے جانی جانے والی تنظیم کی جانب سے کی گئی تھی اور میانمار میں اندرونی تنازعات نے کیمپوں میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بھی متاثر کیا ہے۔
کُکس بازار کے علاقے کے پولیس سربراہ محفوظ اسلام نے بھی اپنے الفاظ میں اس بات پر زور دیا: "اس وقت کیمپوں میں شدید تشدد جاری ہے، اور پچھلے تین مہینوں میں کیمپوں میں کم از کم 14 روہنگیا ہلاک ہو چکے ہیں۔"