
ایکنا نیوز- امید نیوز کے مطابق گیارہ ہزار مساجد، تین ہزار عبادت ہندو عبادت خانوں اور 1400 کلیساوں کو اسپیکر سے استفادہ کی اجازت صادر کی گیی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خاص شرایط کے ساتھ ان اسپیکروں سے استفادے کی اجازت ہوگی۔
مجموعی طور پر سترہ ہزار آٹھ سو پچاس مساجد، معابد اور کلیساوں نے اسپیکر سے استفادے کی درخواست کی تھی اور ان کو دو سال کے لیے اسپیکر سے استفادے کی اجازت دی گیی ہے اور ہر عبادت خانے سے چار سو پچاس روپے فیس وصول کی گیی ہے۔
اس صوبے میں ہندو ایکٹویسٹوں نے کوشش کی کہ اپنے عبادت خانوں ک اسپیکر سے مساجد کے خلاف پروپیگنڈہ کریں اور ان کے لیے رکاوٹ ڈالے ، انہوں نے عدالتی حکم کو بھی پامال کیا اور ہندو عبادت خانوں سے کہا کہ وہ صبح پانچ بجے ہندوں خداوں کی گیت بجایے تاکہ کوئی اذان کی آواز نہ سن سکے۔
مسلم کونسل نے تمام مساجد سے کہا کہ وہ قوانین کا احترام کریں اور عدالتی حکم کے مطابق عمل کرتے ہوئے اسپیکر استعمال کریں۔
عدالتی حکم میں تاکید کی گیی ہے کہ اسپیکروں سے صبح چھ بجے سے رات دس بجے تک خاص ویلیوم کے ساتھ استفادہ کیا جا سکتا ہے۔/
4093667