
ایکنا- یورو نیوز کے مطابق انڈونیشین حکام کا کہنا تھا کہ درجنوں روھنگیا پناہ گزین صوبہ آچہ کے شمال میں ملے ہیں جو ایک مہینے تک پرانی کشتی میں دربدر پھرتے رہے ناتواں حالت میں سیکور کرلیا گیا ہے۔
یہ گروپ 58 افراد پر مشتمل تھے جو میانمار کی ظالم حکومت سے فرار پر مجبور ہوئے تھے اور ڈاکٹروں کے مطابق پانی کی کمی کی وجہ سے تین افراد کی حالت سیریس ہے۔
گروپ کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ وہ لوگ ایک مہینے سے زائد کشتی پر رہے ہیں تاکہ ایک مناسب جگہ پر خود کو محفوظ کرسکے۔
میانمار جہاں اکثریت بدھ مذہب کی ہے وہاں پر روھنگیا مسلمانوں کی شہریت منسوخ کرکے انہیں مہاجر بنایا گیا ہے اور وہ مدتوں سے دیگر ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کررہے ہیں اور شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
عالمی انصاف کی عدالت نے میانمار حکومت کو نسل کشی کی مرتکب قرار دے چکی ہے۔
میانمار جنوب مشرقی ایشیائی ملک ہے اور آنگ سان سوچی کی حکومت کو ایک فوجی بغاوت سے فروری 2021 میں ختم کردی گیی ہے اور ملک میں افراتفری کی صورتحال ہے۔/
4109965