قرآن علمی نظریات کے لیے معیار ثابت ہوسکتا ہے

IQNA

قرآن علمی نظریات کے لیے معیار ثابت ہوسکتا ہے

8:00 - January 05, 2023
خبر کا کوڈ: 3513524
علم میں ایک فرضیہ پیش کیا جاتا ہے اور عقل کے معیار پر پرکھا جاتا ہے قرآن میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ درست و نادرست کی تشخیص کے لیے یہ کتاب ایک معیار ہے۔

ایکنا نیوز- بین الاقوامی امامت فاونڈیشن کے سربراہ حجت‌الاسلام والمسلمین محمدتقی سبحانی، نے ایک علمی نشست بعنوان «مرجعیت علمی قرآن کریم» سے خطاب کیا جس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:

مرجیعت علمی قرآن ایک ایسا موضوع ہے جو شاید قرآن مجید اور امت کی ملاپ سے تشکیل پاتی ہے جسمیں مرکزی توجہ علمی میدان اور شعبوں پر ہے جس سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن جو ایک پرانا امر ہے اور جدید مسائل کیونکر ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔

پہلی چیز یہ ہے کیا قرآن کا علمی مرجع یا ماخذ ہونا ایک نظریہ ہے ایک رویہ ہے یا ایک فکری فریم ورک، اگر نظریہ ہے تو اس کا نظریہ کیا ہے کہ اس مسئلے میں ہم اس حد تک نہیں کہ اسکو نظریہ کہے بلکہ ایک علمی رویہ یا اپروچ Approach ہے جو قرآن کو سمجھنے یا عملی کرنے میں مدد دیتا ہے اور ایک فکری فریم ورک بھی ہے۔

ہم قرآن کے علمی مرجع ہونے کو ایک بڑے نظریے کے قالب میں پیش کرسکتے ہیں اور سوشیالوجی کے ماہر قرآنی نظریے سے سوشیالوجی کا نظریہ پیش کرسکتے ہیں اور اس بڑے نظریے کے تناظر میں مختلف موضوعات پر نظریہ پیش کیا جاسکتا ہے۔

 

مفهوم مرجعیت

نظریه مرجعیت علمی قرآن میں دعوی کیا جاسکتا ہے کہ یہ سوشیالوجی اور نفسیات وغیرہ میں مداخلت کرسکتا ہے اور یہ ایک اثر گزار مداخلت ہے ہم کہتے ہیں قرآن حقائق پیش کرتا ہے جو عالم میں موجود ہے یہ مرجعیت نہیں بلکہ اس وقت مرجع ہے جب قرآن مداخلت سے علم میں ایک نیا پہلو پیش کرتا ہے۔

 

 جامعیت قرآن کا مفھوم

اکثر قرآنی محققین مرجعیت علمی قرآن کے فرضیے کو تسلیم کرتے ہیں. پہلا فرضیہ یہ ہے کہ قرآن مفہوم دلیل رکھتا ہے دوسرا یہ کہ منابع تفسیری یا بالخصوص تفسیر اہل بیت کا سلسلہ جاری ہے اور معنی میں وسعت آتا ہے۔

جامعیت سے مراد هدایت ہے نہ افراط نہ تفریط، قرآن کا ہدف ہدایت ہے فرد کا بھی اور معاشرے کا بھی۔

اور ایک فرضیہ علمی رہنمائی ہے اس معنی میں کہ انسان کو ہدایت کے لیے علمی ٹولز کی ضرورت ہے حتی اگر آخرت کی سعادت چاہتا ہے تو بھی اس کو ہدایت کی ضرورت ہے مثلا سیر و سلوک میں۔

یہ مفروضے عام ہیں اور اگر کوئی قبول نہ کریں تو نظریہ مرجعیت قرآن کو چیلنج درپیش ہوتا ہے تاہم اسکو قبول کرنا مشکل نہیں لہذا یہ دو طریقے ہیں جو جدید علم میں علمی پہلو نکل سکتے ہیں ایک یہ کہ ہم یہ دکھا دیں کہ علمی شعبے قرآن سے استفادہ کرتے ہیں یا اس سے متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ علمی فرضیوں کو قرآن سے استخراج اور اس سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

نظرات بینندگان
captcha