
ایکنا- نیوز ایجنسی Dawnکے مطابق جندول کے مقامی رہنما بخت روان کے مطابق مسجد جامع لوی ۲۰۶ سال پرانی مسجد ہے جو غازی عمره خان(افغان نپولین) کے دور میں تعمیر کی گیی ہے۔ یہ ایک تاریخی مسجد ہے مگر اس پر بہت کم توجہ دی گیی ہے۔
روان کا کہنا ہے: میان کلہ قدیم زمانے میں اہم تجارتی روٹ شمار ہوتا تھا اور لوگ افغانستان، روس، چین اور ہندوستان کے قافلے یہاں سے گزرتے تھے۔
مقامی معترین کا کہنا تھا کہ اس مسجد کو بڑی نفاست سے قیمتی لکڑیوں سے تیار کی گیی ہے جس کی لکڑی افغانستان اور شمالی علاقہ جات سے لائی گیی ہے۔
مسجد کی دیواریں، ستون، کھڑکیاں، چھت اور دیگر اشیاء کو خاص ترتیب سے تیار کیا گیا ہے جو مغل دور میں اسلامی طرز تعمیر کی شاہکار ہے۔
خطیب مسجد کا اس بارے کہنا تھا: جامع مسجد لوی یہاں کی اہم مسجد شمار ہوتی ہے جہاں ہزار لوگ مسجد میں جگہ ہوسکتے ہیں اور خصوصی کمیٹی مسجد کے امور کی نظارت کرتی ہے۔/
4121498