
ایکنا نیوز سے گفتگو میں قاری اور حافظ جج عبدالرحمن حردان جو کے شعبے میں جج کے فرائض انجام دیں رہے ہیں انہوں نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا: 6 سال کی عمر میں قرآنی درس شروع کیا اور خدا کے فضل سے اس شعبے میں کام شروع کیا اور پھر تیرہ سال سے حفظ پر کام کیا اور پندرہ سال کی عمر میں حفظ مکمل کرلیا۔
شامی قاری کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں اب بھی حفظ پر روایتی انداز میں کام کیا جاتا ہے جہاں لڑکے جا کر مکتب خانوں میں حفظ شروع کرتے ہیں۔
عبدالرحمن حردان کا کہنا تھا کہ شام بالخصوص حلب میں حفظ اور تجوید پر خاصا کام ہوتا ہے اور اس حؤالے سے کافی کتابیں تجوید پر لکھی جاچکی ہیں۔
شامی قاری کا ملک میں سرگرمیوں کے حوالے سے کہنا تھا: جنگ کے بعد سے شام میں قرآنی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد قرآنی پروگرام ذوق و شوق سے جاری ہے اور مختلف قرآنی تقریبات مختلف علاقوں میں منعقد کی جارہی ہیں۔
شامی قاری کا کہنا تھا: جنگ نے قرآنی سرگرمیوں پر زیادہ اثر نہیں کیا بلکہ اس میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔/
محمد صادق رحیمی کا کہنا تھا: ملایشین مقابلوں کے مقابلے میں ایرانی مقابلوں کا معیار اعلی ہے اور اگر تمام ٹیکنکل شعبوں کو مدنظر رکھا جائے تو ایرانی مقابلے ایک درجہ ان سے بالاتر لگتا ہے۔/
4123851