
ایکنا- معذرت اور اظھار پشیمانی اور خدا کے ہاں توبہ کرنا انسانی کی ترقی کا اہم ترین عنصر شمار ہوتا ہے اور جب ہم خدا سے معذرت کرتے ہیں تو اس بچے کی مانند ہوتے ہیں جو ایک بڑے کے پاس جاکر معذرت کرتا ہے، وہ کریم اور بخشنے والا ہے۔
رمضان کے ستائیسویں دن کی دعا میں ہم یوں کہتے ہیں: «بسم الله الرحمن الرحیم؛ اللهمّ ارْزُقْنی فیهِ فَضْلَ لَیلَةِ القَدْرِ وصَیرْ أموری فیهِ من العُسْرِ الی الیسْرِ واقْبَلْ مَعاذیری وحُطّ عنّی الذّنب والوِزْرِ یا رؤوفاً بِعبادِهِ الصّالِحین؛ اے رب مجھ شب قدر کی فضیلت عنایت کر اور اس میں سختیوں کو آسانی میں بدل دے اور میری معذرت قبول کر اور گناہوں کو بخش دے، اے شایستہ بندوں پر مہربان مالک».
لیلهالقدر کی فضیلت سے بہرہ مندی
سوره قدر میں ہم پڑھتے ہیں کہ شب قدر ایک ہزار مہینے سے بالاتر ہے اس فرصت کو غنیمت جاننا چاہیے کیونکہ یہ رات خیر و برکت سے لبریز ہے۔
سختی کو آسانی میں بدلنا
قرآن کے مطابق ہر سختی کے ساتھ آسانی ہے؛ یعنی آسانی سختی کے اندر چھپی ہے سورہ انشراح میں ہم پڑھتے ہیں: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ * أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ * وَوَضَعْنَا عَنکَ وِزْرَکَ * الَّذِی أَنقَضَ ظَهْرَکَ * وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ * فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً * إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً *فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَ إِلَی رَبِّکَ فَارغَب؛
خدا کے نام سے جو بخشنے والا مہربان ہے، کیا ہم نے تجھے شرح صدر عطا نہیں کی؟ جس بوجھ نے تمھیں ہلکان کیا تھا ہم نے ہٹا دیا، تمھاری شہرت بلند کی، پس ہر سختی کے ساتھ آسانی ہے اور لازما سختی کے ہمراہ آسانی ہے پس جب آسودہ ہوجاو تو اپنے رب کی طرف کوشش کرو اور اس کی طرف متوجہ ہوجاو».
اس میں مخاطب رسول گرامی (ص) اسلام ہے. اس میں رسول اکرم(ص) کو تسلی دینے کے لیے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا گیا ہے۔
معذرت ترقی کا راز
اخلاقی ترقی کے لیے موثر عوامل کو جاننا ہوگا اور اس حوالے سے معذرت و نادم ہونا اور توبہ کرنا اہم ترین عوامل میں شمار ہوتا ہے: «تُوبُوا إِلَی اللهِ جَمِیعاً اَیُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ» اس آیت میں توبہ کو نجات کا وسیلہ بتایا گیا ہے کیونکہ توبہ ایک ایسا دروازہ ہے جس کے راستے بہ آسانی لوٹا جاسکتا ہے اور ترقی و سعادت کی سمت گامزن ہوسکتے ہیں۔
صالح بندوں سے محبت
رأفت کا معنی شدید رحمت بتایا جاتا ہے، رافت و رحمت خدا کے صالح بندوں کے نصیب ہوتی ہے نہ وہ لوگ جو ضد بازی کرتے ہیں کیونکہ خدا اپنی عنایت اور محبت ان لوگوں کے لیے رکھتا ہے جو صالح اعمال بجا لاتے ہیں۔/
* کتاب «روزداروں کی مناجات» به قلم حجتالاسلام روحالله بیدرام سے اقتباس