
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی ڈیلی ٹایمز کے مطابق پشاور پشاور برصٖغیر کا دروازہ شمار ہوتا ہے اور اسکی اسٹریٹیجک اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں جہاں بادشاہوں، جنگجوں اور حملہ آوروں نے عبادت خانے جنمیں مساجد، گرجا گھر اور گوردوارہ شامل ہیں یہاں پر بنائے ہیں۔
مختلف بادشاہ اور حملہ آور کمانڈر یہاں سے مرکزی ایشاء سے گزرتے ہوئے پشاور میں قیام کرتے تھے اور اسی حوالے سے انہوں نے یہاں پر عبادت خانے تعمیر کیے ہیں تاکہ اپنے ہم عقیدہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرسکے۔
ایک محقق بختزاده خان کا کہنا تھا: آخری تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام پہلی بار خیبرپختونخواہ میں سبکتگین جو ترک کمانڈر تھا سال 977 میں یہاں آیا ہے۔
اس کے بعد یہاں مغل ایمپائر آئے اور انہوں نے مسجد محبت خان کی سنگ بنیاد رکھی اور سال 1660 یا ستر میں والی پشاور محبت خان کے توسط سے اس پر کام ہوا۔
اس مسجد کو اسلامی اور مغل طرز معمار کی شاہکار قرار دیا جاسکتا ہے جس کو مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیر کی تاہم اس پر سنگ مرمر سے آرایش کا کام اورنگ زیب عالمگیر نے کیا اور مسجد 1670 کو مکمل ہوئی اور سال 1898 کو ویران ہونے کے بعد سکھ حکام ن دوبارہ مرمت کی۔

ایک بلند ڈھلوان پر تعمیر شدہ اس مسجد میں نمازی آتے ہیں مسجد 2801 مربع میڑ پر محیط ہے جہاں بیس سے تیس ہزار نمازی بیکوقت عبادت کرسکتے ہیں۔
مسجد کی چھت کو سرخ رنگ کے پھولوں سے مزین کی گیی ہےاور بیرونی دیواروں کو مغل دور کے آرٹ سے آراستہ کیا گیا ہے اور اپنی ساخت کی بنا پر اس مسجد کو پشاور کی شناخت کہا جاسکتا ہے۔/





4134247