
ایکنا نیوز- قرآن کریم کا چوہترواں سورہ «مُدَّثِّر« کے نام سے ہے. اس سورے میں 56 آیات ہیں اور یہ سورہ قرآن کے انتیسویں پارے میں ہے۔ مدثر مکی سورہ ہے اور ترتیب نزول کے حوالے سے یہ چوتھا سورہ ہے جو قلب رسول گرامی اسلام (ص) پر نازل ہوا ہے.
سوره مدثر حضرت محمد(ص) کی رسالت کے اوایل میں اترا. لفظ «مدثر» کا معنی «لباس میں لپیٹا ہوا» ہے اور یہ رسول اسلام (ص) کی طرف اشارہ ہے. سورے کی ابتدائی آیات میں رسول اکرم(ص) (وحی کے نزول کی وجہ سے دباو میں آکر شدید سردی کا احساس کرتے اور خود کو کپڑے میں لپیٹ دیتے) انکو کہا جاتا ہے کہ اٹھو اور لوگوں کی ہدایت کرو۔
اس سورے کے ایک حصے میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو رسول گرامی اسلام کو جادوگر کہتا تھا. خدا اس سورے میں قرآن کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو قرآن کا جادو کہتے اور اس کا انکار کرتے انکو خبردار کرتا ہے۔
علامه طباطبایی سوره مدثر میں تین موضوع کو اہم قرار دیتے ہیں: پہلا یہ کہ رسول خدا(ص) کو حکم ہوتا ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو اور اس اندازہ ہوتا ہے کہ رسالت کے آغاز کا دور ہے. دوسرا موضوع قرآن کی عظمت اور مقام کو بیان کرتا ہے اور تیسرا موضؤع جو قرآن کا انکار کرتے ہیں اور اس کو جادو کہتے ہیں انکی سرزنش کرتا ہے، اسی طرح اس سورے میں اہل جنت اور اہم جہنم کی خصوصیات پر بات ہوئی ہے۔
اس سورہ کے اہم حصہ میں اہل جنت و دوزخ کی بات ہوئی ہے جہاں جنتی لوگ جہنمیوں سے جہنم جانے کی وجہ پوچھتے ہیں تو وہ چار وجوہات کی بات کرتے ہیں: «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ؛ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ؛ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ؛ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ: گويند: «ہم نمازی نہ تھے؛ بھوکوں کو کھانا نہ کھلاتے؛ با فضول لوگوں کے ساتھ فضول کام کرتے؛ اور قیامت کو افسانہ سمجھتے» (مدثر/ 43 تا 46)