
ایکنا- اگرچہ ماضی سے ماحول کو نقصان پہنچانے کا عمل جاری ہے مگر اس وقت بدترین صورتحال کا شکار ہے اور انسانی ترقی کے ساتھ ایکوسسٹم کو خطرے سے بھی تیزی سے تباہی کا سامنا ہے۔
رب العزت قرآن کریم میں فساد پھیلانے کے حوالے سے خبردار کرتا ہے اور اعتدال پسندی اور حدود کی رعایت پر تاکید کرتا ہے۔
آیت ۸۷ سوره مبارکه مائده میں ہم پڑھتے ہیں: «وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ: اور حد سے مت نکلو کہ خدا حد پار کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا». اسی طرح آیت ۲۷ سوره مبارکه بقره میں ہم پڑھتے ہیں: «وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ: اور اہل زمین پر فساد پھیلانے والے مت بنو، یہ لوگ حقیقت میں نقصان اٹھانے والے ہیں».
رویے زمین پر تمام نعمتیں انسان کے لیے حلال اور جایز ہیں بشرطیکہ گناہ کے لیے استعمال نہ ہو جسطرح سے سورہ ۶۰ سوره بقره میں ہم پڑھتے ہیں: «كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ: جو چیزخدا نے تمھارے لیے رزق خلق کیا ہے کھاو پیو اور زمین پر فساد اور فتنہ انگیزی مت پھیلاو». لہذا ان نعمتوں کا غلط استعمال بدبختی کا باعث بن سکتا ہے۔
آیت ۲۰۵ سوره بقره میں انسان اور فطرت کے نقصان کو ایکدوسرے کے ساتھ قرار دیا گیا ہے جو ان میں ربط اور تعلق کو بیان کرتا ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے: «وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ: جو کفر کے ساتھ فساد کرتا ہے وہ کھیتوں کی نابودی کے ساتھ اور انسان کی نابودی کا باعث بنتا ہےاور خدا کو فساد پھیلانا پسند نہیں۔».
لہذا توجہ کی ضرورت ہے کہ ماحول کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں جو خدا کی عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کا غلط استعمال بدبختی اور عذاب کا باعث بن سکتا ہے۔/