
قرآن کریم کا چھترواں سورہ «انسان» کے نام سے ہے جسمیں 31 آیات ہیں اور یہ سورہ قرآن کریم کے انتیسویں پارے میں ہے۔ سورہ انسان مدنی ہے اور ترتیب نزول کے حوالے سے یہ اٹھانویں نمبر پر قلب رسول گرامی اسلام (ص) پر اترا ہے۔
اس سورے کا نام «انسان» رکھنے کی وجہ اس کے آغاز میں انسان لفظ کا آنا ہے۔
اس سورہ کو ابرار (نیک لوگوں) کا سورہ بھی کہا جاتا ہے؛ کیونکہ یہ لفظ پانچویں آیت میں آیا ہے اور سورے کا نصف حصہ نیک لوگوں کی تعریف میں اترا ہے۔
سوره انسان میں انسانی خلقت و ہدایت، نیک لوگوں کی خصوصیات، خدا کی نعمتوں اور قرآن کی اہمیت اور تقدیر پر اشارہ ہوا ہے۔
اس سورے میں موضوعات کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
اول: انسانی خلقت، خلقت اور نطفه، ہدایت اور ارادے کی آزادی۔ دوم نیک لوگوں کا بدلہ، سوم وہ خصوصیات جن کی بنیاد پر انعام دیا جاتا ہے، چھارم، قرآنی کی اہمیت اور اس کے احکام کی روش اور خود سازی کا طویل اور دشوار راستہ، پنجم، خدا کی حاکمیت۔ ششم، جنت کی نعمتیں۔
بہت سے مفسرین کے مطابق اس سورے کی آٹھویں آیت جس کو آیت اطعام بھی جانا جاتا ہے شان و فضیلت امام علی(ع)، فاطمه زهرا(س) اور انکے بیٹے حسن و حسین(ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے. انہوں ن تین دن تک روزہ رکھا اور پھر سخت بھوک کے باوجود تینوں رات افطاری کا سامان مسکین و یتیم و اسیر کو بخش دیا۔
اسی عنوان سے مومن کی پانچ خصوصیات بیان کی گیی ہیں: ۱. اپنی عھد یا نذر کا پاس رکھتے ہیں. ۲. روز عذاب سے ڈرتے ہیں. ۳. ضرورت کے باوجود کھانا مسکین و یتیم و اسیر کو بخش دیتے ہیں. ۴. یہ کام صرف خدا کے لیے کرتے ہیں اور کسی سے توقع نہیں رکھتے. ۵. قیامت کے دن خدا سے ڈرتے ہیں۔
مزید یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ کفار دنیا کی عارضی اور فانی زندگی کو دوست رکھتے ہیں حالانکہ ایک سخت دن انکے سامنے ہے جس سے یہ غافل ہیں، انکو خبردار کیا جاتا ہے کہ غرور نہ کریں کیونکہ خدا جب چاہے انکو نابود کرسکتا ہے۔
پھر تاکید کیا جاتا ہے کہ کسی کو ان آیات کو قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، جو خود چاہے اس سے استفادہ کرکے رب کی جانب راستہ ڈھونڈ سکتا ہے۔
البتہ اس نکتے پر بھی تاکید کی جاتی ہے کہ انسان کسی چیز کو نہیں چاہتا مگر یہ کہ خدا چاہتا ہے خدا جس کو چاہتا ہے اور جس کو شایستہ دیکھتا ہے اپنی رحمت کے دائرے میں لاتا ہے اور ستمکاروں کے لیے خدا کا عذاب تیار ہے۔