خدا کی رحمت کس طرح سے شرط و شروط کے بغیر

IQNA

خدا کی رحمت کس طرح سے شرط و شروط کے بغیر

12:30 - May 14, 2023
خبر کا کوڈ: 3514294
مذہبی تعلیمات میں دو طرح کی رحمت الھی پر اشارہ ہوا ہے پہلی رحمت شرط و شرایط کے ساتھ ہے تاہم دوسری قسم میں کسی قسم کی شرط و شرایط نہیں، گویا اس میں عشق و محبت حاکم ہے۔

ایکنا نیوز- حوزہ علمیہ کے استاد حجت‌الاسلام والمسلمین محمد سروش محلاتی، دعائے  سحر کی تشریح کے درس میں رحمت واسعه (پھیلی ہوئی) الهی (اللهم انی اسئلک من رحمتک باوسعها..) کی تشریح کرتے ہیں:

 

رحمت واسعه ایسی رحمت ہے کس کی کوئی حد نہیں اور اس میں تمام موجودات شامل ہیں کوئی چیز اس سے خارج نہیں۔

 تفسیر المیزان میں خدا کی وسیع رحمت بارے کہا جاتا ہے: ایسی رحمت جو صرف خاص لوگوں تک محدود نہیں اور کسی مخصوص گروپ بارے نہیں، سب اس میں شامل ہیں۔

کیا خدا کی وسیع رحمت کے لیے کوئی شرط ہے؟

کیا سارے انسان اس رحمت سے استفادہ کرتے ہیں یا نہیں؟ علامه طباطبایی  تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں کہ بعض انسان رحمت وسیع سے محروم ہیں اس وجہ سے نہیں کہ اس رحمت کے لیے کوئی کنڈیشن ہے بلکہ ایسے لوگ میں ایسی ظرفیت اور قابلیت نہیں کہ اس رحمت سے فایدہ اٹھا سکے۔

جو منہ موڑ کر دوسری طرف جاتا ہے اس وجہ سے نہیں کہ خدا نے اسکو محروم کیا ہے بلکہ یہ شخص خود ظرف کو رحمت کے قریب نہیں لاتا۔

 

رحمت کی دو قسم

لہذا مان لینا چاہئے کہ رحمت الهی دو قسم کی ہیں؛ ایسی رحمت جو انسان کی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق اس کو ملتی ہے اس میں انسان خود کو پاکیزہ رکھ کر ایسی صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ اسی مناسبت سے وہ ایسی رحمت کو حاصل کرتا ہے۔

 دوسری قسم بغیر کسی قابلیت و صلاحیت کے ہے، کیا یہ منطقی امر ہے کہ نہیں؟ یعنی کسی نے صلاحیت پیدا نہیں کی ہے تاہم خدا نے اپنی رحمت اس کو بھی بخش دیا ہے۔ یہ جو بعض دعاوں میں کہا جاتا ہے کہ خدا سے رحمت طلب کریں گرچہ شاید ہم اس قابل نہیں۔

مناجات شعبانیه میں ہم پڑھتے ہیں کہ اے اللہ، اگرچہ میری صلاحیت اس قابل نہیں مگر آپ اپنی سخاوت و کرم سے مجھے عطا کر، میں قابل نہیں تاہم آپ کی رحمت اور فضل و کرم وسیع ہے، میری نالائقی آپ کو محدود نہیں کرسکتی کہ آپ مجھ پر وسیع رحمت نازل نہ کرے۔

دعائے ابوحمزه میں ہم پڑھتے ہیں ؛ اے اللہ اگر آپ ہمارے کردار کی بنیاد پر فضل و رحمت نازل کرنا چاہے تو میرا حال خراب ہے ہم میں صلاحیت نہیں مگر آپ بخشنے والا ہے پس ہم پر احسان کرکے وہ نازل کر جس کا تو اہل ہے۔

پہلئ رحمت میں شرط و شرایط ہیں تاہم رحمت کی دوسری قسم میں یہ شرط ختم ہوتی ہے یہاں پر عقلی و حساب کتاب کا معاملہ نہیں یہاں پر عشق و محبت بنیاد ہے۔

جب ہم «اللهم انی اسئلک من رحمتک باوسعها» پر توجہ کرتے ہیں، اللہ سے ہم چاہتے ہیں کہ حساب و کتاب کو ایک جانب رکھ کر ہم کو رحمت سے بخش دے ایسی رحمت جسمیں کوئی شرط و شرایط نہیں جس کے لیے قابلیت سے ہٹ کو استفادہ کیا جاتا ہے۔/

نظرات بینندگان
captcha