
ایکنا نیوز- ایرانی مدارس کے سربراہ آیتالله علیرضا اعرافی، نے سیمینار بعنوان «مهدویت و انتظار آیتالله العظمی صافی گلپایگانی کے افکار میں» جو قم میں منعقد ہوا اس میں انہوں نے خطاب کیا۔
مهدویت اهل بیت(ع) کی نظر میں، منجی اور مشترکات آخرالزمان انسانی افکار میں، عام مذاہب، اادیان ابراهیمی و توحیدی کی اسلامی جڑیں. افکار مھدوی اور اهل بیت(ع) کی تعلیمات میں، کے موضوعات پر روشنی ڈالی گیی۔
مهدویت کی خصوصیات شیعه تعلیمات میں
ایک اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ شیعہ مهدویت ایک منظم لائیحہ عمل اور روڑ میپ ہے جو دنیا کے آخر میں واقع ہوگا، اس مکتب کے مطابق مھدویت ایک جامع اور درست ترین نقشہ ہے اور ایسا کلی طور پر نہیں ایک آخر میں روز حساب ہوگا بلکہ ایسا ہوگا لیکن انسان آئیگا جس کی نسل اور والدین مکمل معلوم ہیں۔
مھدویت کے موضوع میں ایک عمدہ کاوش آیتالله العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب بعنوان «منتخبالاثر» ہے جس میں مھدویت کے لائیحہ عمل کو باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے۔
مهدویت ایک عوامی نظریہ نہیں بلکه مهدویت شیعہ افکار اور نظریے کے مطابق ایک عظیم دن کے حوالے سے واضح ہے۔
ستر سالہ مرجع تقلید نے اس وقت جب انقلاب اسلامی برپا نہیں ہوا تھا انہوں نے اہم منابع اور سورسز سے ایک فعال اور زندہ مھدوی معاشرے کی منظر کشی کی ہے۔
اس کتاب میں ادبیات حکیمانہ اور مودبانہ ہیں اور منصفانہ انداز میں دوسروں کے افکار پر تنقید کی گیی ہے اور جب شیعہ یا مسلم دانشور سے ٹکراو ہوتا ہے تو رعایت و احترام کے ساتھ انکی بعض آرا کو تسلیم کرتے ہیں۔
آیتالله العظمی صافی گلپایگانی کی شخصیت ایک اعلی نمونہ تھی اور انکے ورثے کو محفوظ رکھنا چاہیے۔/