
کفار کو دائمی اور ابدی سزا دینے کا مسئله جاودانه اور پھر تفسیر سوره حمد اور خدا کے رحمان و رحیم اور تمام بندوں پر رحمت کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسطرح بعض لوگوں کو ابدی جہنم میں رکھا جائیگا۔
بعض مفسرین نے کفار کی نیت کو وجہ اور سبب قرار دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ گناہ کی مسلسل نیت اور دائمی عذاب میں ایک ربط ہے تاہم صرف نیت کی بنیاد پر دائمی عذاب کچھ زیادہ قابل قبول نہیں لگتا۔
بعض دیگر مفسرین «خلود»(ایک مکان میں دائمی سکونت) کو بیان کرتا ہے کہ ایک طویل مدت تک رہنا، کیونکہ کفر اور جان بوجھ کر گناہ پر اصرار ایک عظیم گناہ شمار ہوتا ہے اسی مناسبت سے عذاب بھی طولانی ہوگا۔ تاہم ان تفاسیر اور فقہ میں مطابقت دکھائی نہیں دیتی، بعض مفسرین کے مطابق دائمی عذاب خدا کے ارادے سے مشروط ہے یعنی جب تک خدا چاہے گا وہ عذاب میں رہے گا۔
دوسری جانب تفسیر میں اصول کو دیکھنا چاہیے نہ کہ فروع کو، اصل کے مطابق تفسیرآیات میں ہم اس یقین پر پہنچتے ہیں کہ خدا ظالم نہیں اور نظالم عالم نظام عدل ہے اور دائمی عذاب کو اس دو بنیاد پر دیکھنا چاہئے تاہم کیا کفر دائمی عذاب کا باعث بن سکتا ہے اور کیا اس کا خدا کے ظالم ہونے سے تعبیر ممکن ہے؟
ممکن ہے کہ یہ ہماری عقل سے خارج ہو، اس حوالے سے ایک اہم عامل پر غور کی ضرورت ہے کہ خلود سے مراد ہمارے اعتبار سے درک زمانی یا وقت کا ادراک ہے اور کیا آخرت کی دنیا میں ہم اسی دنیاوی ٹایم کے پابند ہے کہ نہیں، واضح نہیں۔
اگر ہمارا ٹایم کا میعار وہاں نہ ہو یا خلود کا یہ معنی نہ ہو تو اس کا درست ادراک ممکن نہیں، جسطرح سے عذاب کا جسمانی اور روحانی پر بحث واضح نہیں۔
تاہم اس کا یہ مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم عذاب کے ہونے پر شک کریں مگر ہماری عقل کی حد کی وجہ سے اسکے ٹایم کا شاید درست ادراک مشکل ہے۔
اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ عذاب کا مسئلہ ایک دائمی امر ہے جو خدا کے رحمان و رحیم ہونے سے متصادم ہے تاہم ہماری جسٹیفیکیشن کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خدا کے رحمان و رحیم ہونے میں شک کریں مگر اس اصل میں بھی شک نہیں کہ خدا ظالم نہیں تاہم آخرت کے بارے میں واضح ادراک اس مسئلے میں حائل ہے لہذا اس حوالے سے اصل پر یقین کے ساتھ فروع میں توجہ یا شک کی گنجایش باقی رکھنی چاہیے۔/