ایکنا تھران: قرآن اپنے تعارف کے لیے لفظ «مجید و ستایش شدہ» استعمال کرتا ہےتاہم اس تعریف کی حقیقت کیا ہے؟

ایکنا نیوز- ایک صفت جس سے خدا نے قرآن کی تعریف کی ہے وہ مجید ہے۔ آیت نمبر ایک سورہ ق میں آیا ہے: : «ق وَ الْقُرْءَانِ الْمَجِيد؛ ق، سوگند به قرآن مجيد» (ق:1) و همچنین در آیه 21و22 سوره مبارکه بروج میفرماید: «بَلْ هُوَ قُرْءَانٌ مجَّيدٌ فىِ لَوْحٍ محَّفُوظ ؛ (اين آيات، سحر و دروغ نيست،) بلكه قرآن با عظمت است كه در لوح محفوظ جاى دارد!» (بروج:21-22)
لفظ «مجيد» کی جڑ «مجد» کا معنى «وسیع شرافت» ہے، اور جسطرح سے قرآن لامحدود عظمت و شرافت رکھتا ہے كلمه «مجيد» بہترین تعریف کہا جاسکتا ہے، قرآن کا ظاہر خوبصورت، قرآن کا محتوی یا مضمون عظيم، احکامات عالی، اور پروگرام حیات بخش ہے۔
آیت 1سوره ق کے حوالے سے مختلف نکات بیان ہوتے ہیں:
سوره بروج میں مجید ہونے کی بات ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ: انکے اصرار (کفار) قرآن کی نسبت کہ یہ شعر و جادو ہے فضول ہے بلكه قرآن مجيد و با عظمت اور بلند مقام ہے «بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ» (بروج:22)
قرآن ایسا کلام ہے جو لوح محفوظ میں ثبت ہے جہاں نا اہلوں اور شیاطین کی دست رسی ممکن نہیں اور یہ قرآن کسی طرح کی تبدیلی و تحریف سے مبرا ہے۔/