
سیکڑوں زخم کلیجے سے لگانے ہوئے ہیں
ہم فلسطینی ہیں ہم خوں میں نہائے ہوئے ہیں
بوے بارود فضاؤں کو مکدر کئے ہے
ہر طرف لاشوں نے انبار لگائے ہوئے ہیں
چیخ بیواؤں کی اور بم کے دھماکوں کی صدا
اس قدر ہے کہ سبھی کان دبائے ہوئے ہیں
اتنی تعداد میں دم توڑے ہیں گھر والوں نے
ایک کاندھے پے کئی لاش اٹھاے ہوئے ہیں
کلمہ گو بھی ہیں طرفدار یہودیت کے
اپنے ہی گھر میں ہم اس وقت پرائے ہوئے ہیں
آج باندھے ہیں کمر ہم کو مٹانے پے جو لوگ
وہ دغاباز ہمارے ہی بسائے ہوئے ہیں
قتل کرکے بھی وہ بے چین نہ کرپائے ہمیں
ہم دعاؤں سے انھیں اپنی ستائے ہوئے ہیں
اپنے گلشن کے لئے خود وہ ابھی تھیں کلیاں
پھول زخموں کے بدن پر جو سجانے ہوئے ہیں
آپ اپنی نظم اس واٹس ایپ نمبر پر بھیج سکتے ہیں:
+989369084631