
حجتالاسلام والمسلمین محمود موسوی شاهرودی، جو کہ ایک بین الاقوامی مبلغ اور محقق ہیں، نے ایکنا نیوز کے ساتھ گفتگو میں اپنی سرگرمیوں کا مختصر ذکر کرتے ہوئے اپنے صوتی و تصویری تفسیر قرآن کے بارے میں وضاحت کی، جسے انہوں نے 10 سال کے دوران مکمل کیا۔ یہ گفتگو درج ذیل ہے:
ایکنا: براہ کرم سب سے پہلے اپنی علمی سرگرمیوں کا مختصر تعارف کرائیں۔
حجتالاسلام موسوی شاهرودی:
میں نے اپنی تعلیم مشہد کے حوزہ علمیہ سے شروع کی اور تقریباً 15 سال کی عمر میں مزید تعلیم کے لیے قم آگیا۔ تقریباً 18 سال کی عمر میں آیتالله وحید خراسانی اور آیتالله تبریزی کے درس میں شرکت کی۔ 19 سے 31 سال کی عمر تک ان دونوں مراجع تقلید کے دروس خارج میں شرکت کی اور تدریس بھی کرتا رہا۔ سن 1367 ہجری شمسی (1988) میں قم میں انگریزی زبان کی تربیتی کلاسز مکمل کیں اور پھر تہران میں انگریزی کے خصوصی کورس میں شرکت کی۔ اس کے بعد پہلی تبلیغی سفر کے طور پر نائیجیریا گیا۔
نائیجیریا میں عربی اور انگریزی زبانیں استعمال کی جاتی تھیں، لہذا میں نے وہاں اپنی تقریریں عربی اور انگریزی میں پیش کیں۔ نائیجیریا کے حوزہ علمیہ، جس میں 70 طلبہ تھے، میں بھی انگریزی اور عربی میں تدریس کی۔ ایک سال بعد زامبیا چلا گیا، جہاں میں نے 2 سال تک عربی اور انگریزی میں فقہ کی تدریس کی اور نماز جمعہ کے خطبات بھی انگریزی میں پڑھائے۔ رمضان کے 30 اور محرم کے 10 راتوں میں مسلسل تقریریں کیں۔
اس کے بعد تقریباً 8 سال امریکہ میں رہا، جہاں میں نے پہلے ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پھر فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ تبلیغی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔ جمعرات کی راتوں کو ایرانی، لبنانی اور عراقی تعلیم یافتہ افراد کے لیے تفسیر قرآن پڑھاتا تھا اور سال کے مخصوص مواقع، جیسے رمضان کے 30 راتیں اور محرم کی 10 راتوں میں تقریریں کرتا تھا۔
بعد ازاں پی ایچ ڈی کے لیے نیویارک گیا، جہاں اسلامی مرکز نیویارک کا انتظام سنبھالا اور فلاڈیلفیا کی ٹیمپل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ نیویارک میں بھی ایرانی برادری کے لیے مختلف مواقع پر تقریریں کرتا رہا۔ ایک سال کے بعد ایران واپس آیا اور تہران یونیورسٹی میں انگریزی زبان اور اسلامی علوم کی تدریس شروع کی۔ اسی دوران حجتالاسلام قرائتی نے تفسیر قرآن کا منصوبہ تجویز کیا۔

تفسیر قرآن کے علاوہ، میں نے مختلف چینلز پر 250 نہجالبلاغہ کے پروگرام اور 200 اخلاقی و فقہی موضوعات پر پروگرام کیے۔ بعد میں تفسیر قرآن پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ اس دوران میں نے قم یونیورسٹی، جامعه المصطفی(ص) اور جامعه المرتضی(ع) میں انگریزی میں فقہ کی تدریس کی، جہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے غیر ملکی طلبہ پڑھتے تھے۔ اس وقت میں روزانہ نہجالبلاغہ کی شرح پر کام کر رہا ہوں۔
ایکنا: آپ نے انگریزی زبان میں صوتی اور تصویری تفسیر قرآن کے منصوبے پر کیسے کام کیا؟
حجتالاسلام موسوی شاهرودی:
سن 1388 ہجری شمسی (2009) میں حجتالاسلام قرائتی نے مجھ سے رابطہ کیا اور تفسیر قرآن پر بات کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ وہ میرے لیے سہولیات فراہم کریں گے تاکہ میں انگریزی میں ایک مکمل تفسیر قرآن ریکارڈ کروں۔ میں نے اس کام کو خوش دلی سے قبول کیا، کچھ پروگرام ریکارڈ کیے گئے اور ان کی منظوری حاصل ہوئی۔
ایکنا: یہ کام کب شروع کیا اور کتنے عرصے تک جاری رہا؟
یہ تفسیر قرآن کم از کم 10 سال تک جاری رہی، اور تقریباً 7000 صوتی و تصویری کلپس تیار کیے گئے، جو کہ پہلی بار ہوا تھا۔
ایکنا: کیا آپ نے کبھی اس تفسیر کو کتابی شکل میں منتقل کرنے کے بارے میں سوچا؟
میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ یہ کام تحریری صورت میں لانا بہت مفید ہوگا، کیونکہ ہم نے اس تفسیر کو مغربی معاشرے کے پس منظر میں تیار کیا ہے، جہاں کے سامعین کی ذہنیت اور ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ لیکن یہ ایک محنت طلب کام ہے اور افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ابھی تک یہ کام مکمل نہیں ہوا، مگر امید ہے کہ مستقبل میں اسے مکتوب کیا جا سکے گا۔
ایکنا: کیا انگریزی میں مکمل قرآن کی کوئی تصویری تفسیر موجود ہے؟
شیعہ مکتب فکر میں مکمل تصویری تفسیر قرآن موجود نہیں ہے، اور اہل سنت میں بھی اگر کوئی ہو تو وہ بہت کم ہیں۔ کچھ تفاسیر کو انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے، مگر مکمل تصویری تفسیر دستیاب نہیں ہے۔
ایکنا: آپ کے تفسیری طریقہ کار کے بارے میں بتائیں۔
چونکہ ہمارا منصوبہ مکمل قرآن کی تفسیر پیش کرنا تھا، ہم نے تیسویں پارے سے آغاز کیا اور سورت بہ سورت اس کی تفسیر مکمل کی۔ بعد میں انتیسویں اور اٹھائیسویں پارے کی تفسیر کی، اور اس کے بعد شروع سے لے کر ستائیسویں پارے تک باقاعدہ ریکارڈنگ کی۔ یہ تفسیر آیت بہ آیت اور سورت بہ سورت کی گئی ہے۔
میرے فقہ اور کلام میں مہارت کی وجہ سے، تفسیر میں فقہی اور کلامی مسائل کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ جہاں علمی اختلاف موجود تھا، وہاں ضعیف روایات کے بجائے مستند اور متفقہ شیعہ روایات پر زور دیا گیا۔ اس لیے اسے ایک کلامی-فقہی تفسیر کہا جا سکتا ہے۔
ایکنا: کیا اس تفسیر کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی؟
میں نشر و اشاعت کا براہ راست ذمہ دار نہیں تھا، لیکن حجتالاسلام قرائتی کے ادارے نے اسے نشر کیا اور تقریباً 1000 پروگرام سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے، جنہیں ٹی وی پر نشر کیا گیا۔ ادارے کے مطابق، اس تفسیر کو بہت پذیرائی ملی، کیونکہ انگریزی بولنے والے شیعوں کے پاس ایسی کوئی مکمل تفسیر موجود نہیں تھی۔
ایکنا: قرآن کی آڈیو اور تصویری تفسیر کو انگریزی یا دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کی کتنی ضرورت ہے؟
ہم نے ثقافتی میدان میں بہت کم کام کیا ہے۔ قرآن کے تراجم کی بات کریں تو اہل سنت کے کئی اچھے انگریزی تراجم موجود ہیں، جنہیں ہم بھی بڑی حد تک قبول کرتے ہیں۔ شیعہ مکتب فکر میں بھی 4 یا 5 معیاری انگریزی تراجم موجود ہیں۔
کچھ معروف تراجم میں یوسف علی (اہل سنت)، شاکر، محترمہ صفار کا جدید طرز کا ترجمہ، اور نیویارک میں شیخ سرور کا ترجمہ شامل ہیں۔
تفسیری سطح پر، شیعہ اور اہل سنت کے درمیان فقہی و کلامی مسائل میں واضح فرق ہے۔ شیعہ فقہ و کلام کے اصولوں کی وضاحت کے لیے اس تفسیر کی اشد ضرورت ہے۔
ایکنا: آپ کی نظر میں اس تفسیر کو انگریزی بولنے والے سامعین تک پہنچانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
اگر اسے کتابی شکل میں مرتب کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ میں نے اس تفسیر میں مستند روایات پر زور دیا اور ضعیف روایات کو شامل نہیں کیا۔ ساتھ ہی، 20 منٹ کے ویڈیو کلپس کو خلاصہ، موضوعاتی اور عنوانی شکل دی جائے تو سامعین کے لیے زیادہ مؤثر ہوگا۔/
4268963