
اصفہان سے ایکنا نیوز کے مطابق، جاپانی خاتون آتسوکو ہوشینو، جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام فاطمہ ہوشینو رکھا، یونیورسٹی آف اصفہان کے شعبہ علوم قرآن و حدیث کے زیرِ اہتمام سیمینار "آتسوکو سے فاطمہ بننے تک کا سفر" میں مہمانِ خصوصی تھیں۔
اس نشست میں فاطمہ ہوشینو نے اپنی زندگی اور حقیقت کی تلاش کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: میری پیدائش ایک بدھ مت اور شینتو عقیدے رکھنے والے گھرانے میں ہوئی۔ ہمارے خاندان میں مختلف مذاہب رائج تھے۔ کچھ عرصے بعد میرے چچا نے عیسائیت قبول کی، امریکہ گئے، وہاں ایک بائبل اسکول (جو دینی مدرسہ کی مانند ہے) میں تعلیم حاصل کی، پادری بن کر جاپان واپس آئے اور مجھے بھی عیسائیت کی دعوت دی۔ چونکہ میں بچپن سے ہی جستجو پسند طبیعت رکھتی تھی، میں نے اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے گہرے سوالات کے جوابات کی تلاش شروع کی۔
انکا کہنا تھا : میں نے بودھ اور شینتو مندروں سے لے کر گرجا گھروں اور مختلف عبادت گاہوں تک کا رخ کیا، مختلف مذاہب سے بحث و مکالمہ کیا، یہاں تک کہ ایک وقت میں جادو ٹونے میں بھی مبتلا ہوگئی اور سخت ریاضتیں کیں تاکہ کسی ماورائی طاقت تک رسائی حاصل کرسکوں اور یہ سمجھ سکوں کہ زندگی کا مفہوم کیا ہے؟ ہم کیوں پیدا ہوئے ہیں اور کیوں مرتے ہیں؟ موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟ مگر مجھے کوئی جواب نہ ملا۔
بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ اور اقوامِ متحدہ سے مایوسی
انہوں نے مزید بتایا: میں نے عالمی مسائل کے حل کے ارادے سے بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا اور خوش تھی، مگر کچھ عرصے بعد اقوامِ متحدہ کی اصل حقیقت سامنے آگئی۔ میں نے دیکھا کہ وہ کم ترقی یافتہ ممالک کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اسلام سے ابتدائی آشنائی
فاطمہ ہوشینو نے بتایا: اُس زمانے میں انٹرنیٹ آج کی طرح عام نہیں تھا، اور اسلام کے بارے میں جو معلومات ہمیں ملتیں وہ صرف میڈیا کے پروپیگنڈے تک محدود تھیں جیسے یہ کہ اسلام تلوار کا مذہب ہے اور مسلمان اتنے پسماندہ ہیں کہ اونٹ اور گھوڑوں پر سفر کرتے ہیں۔ قرآن سوزی اور پیغمبر اکرمؐ کی توہین جیسے واقعات نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر اسلام ہی کیوں اتنی شدید تنقید اور نفرت کا نشانہ ہے؟
قرآن سے ملاقات اور اس کی کشش
انہوں نے مزید کہا: میری جستجو دوبارہ جاگ اٹھی۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اسلام وہ نہیں ہے جو ہمیں بتایا گیا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ قرآن کا مطالعہ کروں۔ چونکہ جاپان میں ایسے کتب دستیاب نہیں ہوتیں، میں نے قرآن کا ترجمہ امریکہ سے منگوایا۔ عورت کے مقام کے بارے میں اسلامی تعلیمات نے مجھے حیران کر دیا۔ جاپان اور بعض دیگر معاشروں میں عورت کو ہر عمر میں کم حیثیت سمجھا جاتا ہے۔
قرآن کے ذریعے سوالوں کے جوابات
انہوں نے کہا: میں نے تجربات حاصل کیے اور تقابل کیا۔ مجھے یاد ہے جب میں ۱۷ سال کی عمر میں امریکہ گئی تو صرف ایشیائی چہرہ ہونے کی وجہ سے میرا مذاق اڑایا گیا، یہاں تک کہ سیاہ فام اور سفید فام چرچ الگ الگ تھے۔ پھر میں قرآن کی اس آیت سے ملی جس میں کہا گیا کہ رنگ اور نسل کا فرق خدا کی قدرت کی نشانی ہے۔ میں نے قرآن میں دیکھا کہ بار بار انسان کو تفکر اور عقل کے استعمال کی دعوت دی جاتی ہے، جبکہ شینتو عقائد میں اس طرح کی منطقی و عقلی سوچ موجود نہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا: مجھے محسوس ہوا کہ قرآن میرے تمام سوالات کے واضح جوابات دیتا ہے، کوئی ابہام نہیں رکھتا، اور اس کی ہدایات ایک طبیب کے نسخے کی مانند ہیں جنہوں نے مجھے اُن بیماریوں سے نجات دی جن کا علاج برسوں تک ممکن نہیں ہوا تھا۔ میں نے اپنا حقیقی طبیب پا لیا۔/
4313193