
ایکنا نیوز کے مطابق، یہ اجتماع گذشتہ دنوں حضرت رقیہ (س) فیکلٹی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا، جس میں نہ صرف حافظانِ قرآن کی شرکت رہی بلکہ “جایزه سال حمد” کے قرآنی مقابلے کے نمایاں شرکاء کو بھی اعزازات سے نوازا گیا۔
محمدرضا بابایی، گورنر یزد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قرآنِ کریم کو انسانیت کی نجات اور سعادت کا سرچشمہ قرار دیا اور کہا: تلاوتِ قرآن کو ہمیشہ تدبر اور گہرے فہم کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ قرآن کی نورانی آیات ہی دراصل زندگی اور کامیابی کی آیات ہیں۔
حجتالاسلام حمیدرضا مطہریان، جو یزد میں قرآن و عترت کی عوامی و ثقافتی انجمنوں کے اتحاد کے سربراہ ہیں، نے اس موقع پر وضاحت کی کہ چار ہزار شہید، چار ہزار حافظِ قرآن‘ کا یہ عظیم منصوبہ شہداء یزد کی یاد میں قرآنی تعلیمات کو زندہ رکھنے کے لیے سال ۱۴۰۱ (2022) میں عوامی قرآنی اداروں کی کوششوں سے شروع کیا گیا، اور اسے بے حد پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 6,841 افراد اس منصوبے میں شامل ہوچکے ہیں، جو یزدی عوام کے قرآن سے گہرے تعلق اور لگن کا مظہر ہے۔
اسی طرح، منصوبے کے انتظامی سیکریٹری روحالله مطہریان نے کہا کہ “یہ دوسرا بڑا اجتماع حافظانِ قرآن کا ہے، جس میں صوبے کے حافظین، اساتذہ، اور اداروں کے منتظمین شریک ہوئے۔ اس موقع پر رمضان المبارک کے دوران منعقدہ ’جایزه سال حمد‘ کے ممتاز شرکاء کی بھی حوصلہافزائی کی گئی۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں قرآنی آیات کی قراءت، منتخب حافظین کے تدبری نکات کی پیشکش، اور نمایاں اداروں و اساتذہ کی تعارف و پذیرائی بھی عمل میں آئی۔/
4313821