
ایکنا نیوز، یہ نشست ادارہ ثقافت و تعلقات اسلامی کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر حجتالاسلام والمسلمین محمد مهدی ایمانیپور، سربراہ ادارہ ثقافت و تعلقات اسلامی نے نماز کی اجتماعی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: نماز کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے ہم سب کو متحد ہو کر عمل کرنا ہوگا۔ نماز کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک با جماعت ادا کرنا ہے۔ اگر ہم نماز کی تکریم کریں گے تو آخرت میں بھی ہمیں عزت ملے گی۔ نماز کی تکریم کا پہلا مرحلہ اسے جماعت کے ساتھ اور وقتِ اول میں ادا کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کی تاسیس کے بعد سے تنظیم ایران کی مثبت اور حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عنقریب بین الاقوامی قرآنی فاؤنڈیشن قائم کی جائے گی، جس کی قیادت معروف بین الاقوامی قاری و قرآنی سفیر حامد شاکرنژاد کے سپرد کی جائے گی۔ یہ فاؤنڈیشن قرآن سے متعلق متنوع عالمی سرگرمیوں کا مرکز ہوگی۔
حکمرانیِ اسلامی کی سب سے نمایاں خصوصیت اقامتِ نماز
نشست کے دوسرے حصے میں سید احمد زرهانی، اقامه نماز کمیٹی کے ڈپٹی نے کہا: اسلامی حکمرانی کی سب سے بڑی خصوصیت اقامتِ نماز ہے۔ رہبرِ معظم انقلاب نے فرمایا کہ نماز کا قیام، حکومتِ صالحان کا ثمرہ ہے۔ اگر ہم تمدنِ نوینِ اسلامی کا مادی ڈھانچہ تو بنا لیں، مگر اس کے فکری و ثقافتی پہلو، یعنی توحیدی ثقافت ، میں کمزوری ہو، تو ہم ناکام رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ ثقافت و تعلقات دراصل بیرونِ ملک اسلامی فکر کا فکری و فہمی مرکز ہے، ہمارے ثقافتی نمائندے دنیا میں اُس نظام کی جھلک دکھاتے ہیں جسے شاید سیاستدان یا منتظمین واضح نہ کر سکیں۔ ان کے ذریعے ہم نماز کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر عام کر سکتے ہیں۔
زرهانی نے تجویز دی کہ نماز سے متعلق متعدد فارسی کتب کو دیگر زبانوں میں ترجمہ کر کے دنیا بھر کے دلچسپی رکھنے والے قارئین تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حجتالاسلام قرائتی، سربراہِ اقامه نماز کمیٹی کی کوششوں سے اب تک نماز پر تقریباً 500 کتب شائع ہو چکی ہیں، جن کا عالمی سطح پر تعارف اور ترجمہ نہایت ضروری ہے۔/
4314326